شمالی کوریا: تحقیقات کی صورت میں جوہری تجربے کی دھمکی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption قرارداد کی منظوری امریکہ کی جانب سے سیاسی اشتعال دلانے کی مذموم کوشش ہے: شمالی کوریا

شمالی کوریا نے اقوامِ متحدہ کی جانب سے حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی صورت میں جوہری دھماکہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔

جمعرات کو شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے بیان میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم پر تفتیش کے لیے قرارداد کی منظوری کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔

شمالی کوریا اس سے قبل 2006، 2009 اور 2013 میں جوہری تجربات کر چکا ہے۔

یہ دھمکی ایسے موقعے پر دی گئی ہے جب سیٹیلائٹ سے حاصل ہونے والی نئی تصاویر میں شمالی کوریا کی جوہری تنصیبات میں تازہ سرگرمیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کی کمیٹی نے منگل کو سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق سے متعلق شمالی کوریا کے ریکارڈ کے تناظر میں جرائم کی بین الاقوامی عدالت سے رجوع کرے۔

کمیٹی نے پیانگ یانگ حکام کی جانب سے مبینہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم پر تفتیش کے لیے ایک قرارداد بھی منظور کی ہے۔

شمالی کوریا کے مطابق یہ قرارداد ملک کے منحرفین کے ’من گھڑت بیانات‘ کی بنیاد پر بنائی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’قرارداد کی منظوری امریکہ کی جانب سے سیاسی اشتعال دلانے کی مذموم کوشش ہے اور اس قسم کی حرکت کی صورت میں ہمارے لیے ایک نئے جوہری تجربے سے مزید باز رہنا ممکن نہیں۔‘

امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک ترجمان نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’شمالی کوریا میں حقوقِ انسانی کی صورتِ حال پر جائز عالمی توجہ کے جواب میں اس قسم کی حرکت کی دھمکی دینا یقیناً مایوس کن ہے۔‘

شمالی کوریا ماضی میں بھی حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں کے الزامات مسترد کرتا رہا ہے۔

اسی بارے میں