’اپنے یزیدی دوستوں سے بات نہیں کر سکتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption موصل میں جہادیوں نے عیسائیوں کے مکانوں پر قبضہ کر لیا

شمالی عراق کے شہر موصل پر اس سال جون میں دولت اسلامیہ کا قبضہ ہونے کے ساتھ ہی اس علاقے کی آبادی جہادی جنگجوؤں کے شکنجے میں آگئی تھی۔

جہادیوں نے اس علاقے پر قبضہ کرتے ہی شریعت کی اپنی تشریح کے مطابق سخت اسلامی قوانین نافذ کر دیے جن میں سخت ترین سزائیں، عورتوں پر پابندیاں اور اختلاف رائے کے لیے عدم برداشت شامل ہیں۔

موصل پر دولت اسلامیہ کے قبضے کے بعد وہاں کے حالات کے بارے میں لوگوں کی ڈائریوں سے اندازہ ہوتا ہے۔

ڈائری لکھنے والوں کے نام ان کے تحفظ کے پیش نظر ظاہر نہیں کیے جا رہے۔

بارہ نومبر سنہ دو ہزار چودہ

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہماری سرزمین پر جو پانی اور تیل کے ذخائر سے مالا مال ہے، پانی اور بجلی کی وافر مقدار میں سپلائی ہوتی تھی۔ لیکن اب دولت اسلامیہ کی خلافت کے دور میں ہمیں شدید مشکلات کا سامنا ہے جس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔

پانی کی سپلائی معطل ہے کیونکہ اکثر اوقات بجلی منقطع رہتی ہے جس کی وجہ سے واٹر سٹیشن کام نہیں کر سکتے۔

ہم نے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ایک کنواں کھودا ہے۔ ہم اپنے دالان میں بارش کا پانی ذخیرہ کرتے ہیں، میری ماں چھت سے پائپ کے ذریعے نیچے آنے والے پانی کو کپڑے دھونے اور صفائی کے لیے جمع کر لیتی ہیں۔

جاڑے کا موسم جلد آ گیا ہے اور سخت سردی پڑ رہی ہے۔ گرم پانی عراق کی سردیوں میں ایک بنیادی ضرورت ہوتا ہے لیکن ہمیں گرم پانی کیسے مہیا ہو سکتا ہے۔ ہماری بجلی فراہم کرنے والی قومی کمپنی سے گذشتہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے بجلی سپلائی نہیں کی گئی۔

ہمیں مکمل طور پر اپنے جنریٹروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ میرے پیارے شہر میں ان کے بغیر رہنا ناممکن ہے۔

ہمارے ہمسائیوں نے پانی کی قلت کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی، ہم نے کنواں کھودا تاکہ پانی کی مسلسل قلت کے دنوں ہمیں اپنی ضروریات پورا کرنے کے لیے وافر پانی مل سکے۔

موصل شہر میں کنووؤں کی کھودائی عام ہو گئی ہے اور ہر کوئی کنواں کھود رہا ہے ایک ایسے علاقے میں جہاں دو دریا بہتے ہیں۔

ہم اب مٹی کا تیل بچانے کی کوشش کرتے ہیں گو کہ یہ بہت مہنگا اور نایاب ہو گیا ہے۔ ایک بیرل کی قمیت ڈھائی سو ڈالر ہوگئی ہے جبکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی قیمت سو ڈالر فی بیرل سے بھی کم ہے۔

لیکن یہ کوئی حیران کن بات نہیں ہے کیونکہ ہم معجزات کی سرزمین عراق میں بستے ہیں۔

فیصل

چودہ نومبر سنہ دو ہزار چودہ

از طرف میئز

موصل صوبے کے شہر نینوا میں سکول شروع ہوئے لیکن یہ سال کسی دوسرے سال کی طرح نہیں ہے۔

دولت اسلامیہ نے طلبہ اور سکولوں کی انتظامیہ کے لیے انتہائی سخت پابندی نافذ کی ہیں۔

ذوالقرنین شہر کے لوگوں کے لیے ایک نیا نام ہے۔ یہ نینوا شہر میں دولت اسلامیہ کے تعلیم کے شعبے کے انچارج کا نام ہے۔ ہمارے علاقے میں تعلیم کے حاکم اعلیٰ کے طور پر اس کا نام ہماری کتابوں پر درج ہے۔

اس کا تعلق مصر سے ہے اور اس کی توجہ پرائمری سکولوں میں بچوں اور بچیوں کے علیحدہ کرنے پر ہے۔ اس کی ہدایات کے مطابق بچے ایک عمارت میں جاتے ہیں اور بچیاں دوسری عمارت میں۔ ان کی ہدایت کے مطابق جو بچیاں ذرا بڑی نظر آئیں وہ ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہنیں اور چہروں پر نقاب لگائیں۔

مرد اساتذہ کو بچیوں کی پڑھانے کی اجازت نہیں ہے اور خواتین ٹیچر بچوں کو نہیں پڑھا سکتیں۔ ان ہدایات پر عمل کرنا سرکاری سکولوں کے لیے بھی آسان نہیں ہے اور نجی سکولوں کے لیے تو اور بھی مشکل ہے۔

سرکاری سکولوں کو مالی وسائل شعبہ تعلیم اور وزارتِ تعلیم سے مہیا کیے جاتے ہیں ان کے پاس مرد اور خواتین اساتذہ کی تعداد بھی کافی ہے اور بہت سے عمارتیں ہیں۔

نجی سکول کمرشل بنیادوں پر چلائے جاتے ہیں اور وہ عام لوگوں کی ملکیت ہوتے ہیں، جن کے پاس وسائل کی کمی ہوتی ہے کہ وہ اساتذہ اور عمارتیں فراہم کر سکیں۔

اس کا مطلب ہے کہ نجی سکولوں کی تعداد کم ہو جائے، ایک ایسے وقت میں جب روزگار کے مواقع پہلے ہی کم ہیں اور پیسہ کمانا بہت مشکل ہے۔

فن کا خاتمہ

دولت اسلامیہ نے سکولوں کو نصاب ہی بدل دیا ہے۔ اب جسمانی تعلیم کی تدریس نہیں جاتی۔اس کے بجائے جہاد کی تعلیم دی جاتی ہے، جو ایک باقاعدہ مضمون ہے جس میں طلبا کو جہاد کرنے اور جہاد سے محبت کرنے کا درس دیا جاتا ہے۔

دولت اسلامیہ نے جغرافیہ اور تاریخ کے مضمون کو بھی منسوخ کر دیا تھا لیکن بعد میں انھوں نے اپنا فیصلہ بدل دیا۔ انھوں نے آرٹ کی کلاسوں کو ختم کر دیا اور اس کے بجائے عربی کی خطاطی کی کلاسیں شروع کر دیں۔ انھوں نے رنگوں اور مختلف رنگوں کے قلم استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی۔

اس سب باتوں کی وجہ سے سکولوں کو چلانا مشکل نہیں تقریباً ناممکن ہو گیا ہے خاص طور پر غیر نصابی سرگرمیوں، کھیل اور ڈرائنگ پر پابندی جو طلبا کے لیے خصوصی دلچپسی کا باعث ہے۔

میئز

پانچ نومبر سنہ دو ہزار چودہ

از طرف نظار

ایڈیٹر نوٹ:

دولت اسلامیہ کے موصل پر تسلط قائم کرنے سے پہلے اس شہر میں مسیحوں کی قدیم ترین آبادی تھی۔ دولت اسلامیہ کے آنے کے بعد بہت سے عیسائی شہر چھوڑ کر چلے گئے۔ دولت اسلامیہ نے بہت سے عیسائیوں کو کہا کہ یا تو وہ اسلام قبول کر لیں یا جزیہ دیں یا پھر موت کے لیے تیار ہو جائیں۔ موصل شہر میں عیسائیوں کا کوئی گھر بھی باقی نہیں بچا اور ان کا تمام مال اسباب لوٹ لیا گیا حتیٰ کہ جھوڑیں تک نہیں چھوڑی گئیں۔

دولت اسلامیہ نے جنگجوؤں نے کچھ گھروں پر قبضہ کر کے وہاں رہائش اختیار کر لی اور ان کی تمام اشیاء استعمال کرنےلگے جیسے یہ ان ہی کی ملکیت ہوں۔

انھوں نے تمام علاقے میں سکونت اختیار کر لی اور عیسائیوں اور یزیدیوں کو دشمن تصور کر کے ان کو مالِ غنیمت سمجھ لیاگیا۔ اس طرح دولت اسلامیہ اس علاقے پر ایک بوجھ بن گئی۔

میں اپنے عیسائی اور یزیدی دوستوں کو فون کرتے شرم آتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ میں انھیں فون نہیں کر سکوں گا کیونکہ مجھے احساس ہوتا ہے کہ جیسے میں نے یا میرے کسی رشتہ دار نے یا پھر کسی دوست نے ان کے ساتھ یہ مظالم کیے ہیں۔

میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں دولت اسلامیہ کے کسی ایسے رکن کو نہ سلام کروں گا نہ اس سے بات کروں گا جس نے کسی عیسائی کے گھر پر قبضہ کر لیا ہو۔ میں ان کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا۔

فضائی حملوں سے بچاؤ

میں نے اتحادیوں کی طرف سے بمباری میں ان کا رویہ دیکھا ہے۔ وہ فوراً ہی اپنے گھروں کی روشنیاں گل کر دیتے ہیں اور کچھ چرائی ہوئی گاڑیوں میں نامعلوم مقامات کی طرف چلے جاتے ہیں۔

فضائی حملے کے ختم ہوتے ہیں وہ واپس آ جاتے ہیں۔ میرے ایک دوست نے ان سے یہ پوچھنے کی جسارت کی کہ وہ فضائی حملوں کے دوران کیوں بھاگ جاتے ہیں؟

دولت اسلامیہ کے رکن کا کہنا تھا کہ ان کو ڈر ہے کہ فضائی حملوں میں عیسائیوں کے گھروں کو نشانہ بنایا جائےگا کیونکہ عیسائیوں نے انھیں اپنے گھروں کےمحل وقوع کے بارے میں بتا دیا ہو گا۔

میرے ایک اور دوست نے دولت اسلامیہ کے ایک رکن کےگھر کے قریب ہو کر یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہ گھروں میں کیسے رہتے ہیں کیا کرتے ہیں لیکن وہ کچھ نہ دیکھا سکا کیونکہ وہ کبھی اپنے گھروں کے دروازے کھلے نہیں چھوڑتے اور کبھی اپنے صحنوں اور دالانوں میں بات نہیں کرتے۔

میں نے اور میرے ایک دوست نے یہ عزم کیا ہے کہ ایک مرتبہ یہ دن گزر جائیں اور ہمارا شہر اس مصیبت اور گند سے صاف ہو جائے ہم کسی عیسائی کے گھر کو بحال کریں گے تاکہ ہم دنیا اور کم از کم اپنے عیسائی دوستوں کو یہ دکھا سکیں کہ جنہوں نے ان کے ساتھ یہ کچھ کیا تھا وہ کسی مذہب کو نہیں مانتے۔

چوبیس اکتوبر سنہ دو ہزار چودہ

فیصل کی طرف سے

دولت اسلامیہ کے قبضے کو چار ماہ ہو گئے ہیں اور میرا ایک دوست ابھی تک یہاں چھپا ہوا ہے۔

وہ موصل شہر میں کسی جج کے محافظ کے طور پر کام کرتا تھا لیکن جب شہر پر قبضہ ہوا سب جج چھوڑ کر چلےگئے اور میرا دوست چھپ گیا۔ اس نے اپنا گھر تبدیل کر لیا تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ اسے کہاں تلاش کیا جا سکتا ہے۔

میرا دوست گلیوں میں نہیں نکل سکتا کیونکہ دولت اسلامیہ کے جنگجو ہر جگہ موجود ہیں۔

اکثر وہ چوکیاں قائم کر لیتے ہیں اور دولت اسلامیہ کو مطلوب لوگوں کی تلاش میں آنے جانے والوں کے شناختی کاغذات دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ سابق سیکیورٹی اہلکار، عدلیہ کے لوگ، کوئی بھی شخص جس کے بارے میں شبہہ ہو کہ اس نے دولت اسلامیہ کے کسی رکن کو گرفتار کیا ہو اور کوئی بھی جو حکومت کا ملازم رہا ہو یا جس کا تعلق سیاست سے ہو۔

ان میں سے اکثر دولت اسلامیہ کی سزاؤں کے خوف سے شہر چھوڑ گئے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات کی وجہ سے دولت اسلامیہ سے لوگ متنفر ہوگئے ہیں۔ ان کی مجرمانہ کارروائیوں نے لوگوں کو خوف زدہ کر دیا ہے۔

دولت اسلامیہ کے رکن سرِ عام لوگوں کو سزائیں دیتے ہیں۔ وہ سیاہ عسکری لباس پہنتے ہیں اور وہ لمبی داڑھیاں اور بال رکھتے ہیں۔ کچھ کے بارے میں خیال ہوتا ہے کہ انھوں نے برسوں سے غسل نہیں کیا۔

ہر روز ان کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ اپنے ٹھکانوں کو مستحکم کرنے کے علاوہ نئے مورچے بنا رہے ہیں۔ انھیں اتحادی فوج کی فضائی کارروائیوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے اور اس سے ان پر کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔ اصل میں یہ ہماری حقیقت ہے اور جو اور زیادہ خوفناک ہوگئی ہے۔

مئیز کی طرف سے

میں اپنے پیارے شہر موصل میں سکول میں پڑھاتی ہوں۔ بہت سی دیگر عراقی ماؤں کی طرح میں بھی کام کرتی ہوں تاکہ اپنے شوہر کی کچھ مدد کر سکوں گو کہ یہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن پھر بھی ان مشکل حالات اور مہنگے ترین علاقے میں معاشی مشکلات کم سے کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

اس سال گرمیوں کی چھٹیوں میں نے بغداد جانے کا ارادہ کیا اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے اور ایک شادی میں شرکت کرنے کے لیے۔

شادی کی تقریب کے بعد جب ہم سب اپنے پیاروں کے ساتھ خوش تھے کہ مجھ موصل شہر میں کرفیو اور دولت اسلامیہ کے باغیوں اور سرکاری فوجوں کے درمیان لڑائی شروع ہونے کی اطلاع ملی۔

اس دن کے بعد میں ہر روز موصل میں موجود اپنے شوہر سے شہر کے حالات معلوم کرنے کے لیے فون پر بات کرتی۔

خوف و ہراس

میں نے بغداد میں اپنی زندگی کے بدترین دن گزارے۔ وہ شہر جہاں میرا بچپن گزرا اور میں نے نو عمری کے خواب دیکھے۔ شادی سے پہلے مجھے بغداد بہت پسند تھا اور شادی کے بعد میں موصل آ گئی۔

موصل میں پانچ دن کی لڑائی کے دوران میں نے مستقل خوف اور اذیت میں گزارے۔ مجھے اپنے شوہر کے بارے میں تشویش لاحق تھی۔ مجھ مستقل یہ فکر تھی کہ وہاں کیا ہو رہا ہو گا اور کیا میں اپنے شوہر سے دوبارہ مل سکوں گی کہ نہیں۔

سنی باغیوں اور دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے موصل پر قبضے کے بعد میں نے اور میرے شوہر نے میری واپسی کے منصوبے بنانا شروع کیے لیکن بغداد اور موصل کے درمیان لڑائی کی وجہ سے تمام سڑکیں بند تھیں۔

شہروں پر دنوں نہیں گھنٹوں کے حساب سے قبضہ ہو رہا تھا۔سرکاری فوجوں کی پسپائی سے سب لوگ حیران پریشان رہ گئے۔

میرے شوہر کی کوششوں اور ان کے کچھ تعلقات کی وجہ سے مجھے بغداد سے شمال کی طرف جانے والی ایک پرواز میں سیٹیں مل گئیں۔

لیکن اب ہمیں ایک اور مشکل کا سامنا تھا۔ ہم سڑک کے راستے بغداد آئے تھے اس لیے میں بچوں کی سفری دستاویزات ساتھ نہیں لائی تھی۔ اب ہمیں ہوائی سفر کرنا تھا اس لیے یہ دستاویزات لازمی تھیں۔

مسلح گروہ

خدا کے فضل اور حاضر دماغی کی وجہ سے ہمیں یہ دستاویزات ملی گئیں۔ ایک دوست اپنی گاڑی کے ذریعے موصل سے آ رہا تھا اور پھر اس نے بذریعہ جہاز بغداد آنا تھا اس نے یہ دستاویزات بغداد پہنچا دیں۔

آخر کار بیس جون کو آدھی رات کے وقت میں موصل میں اپنے گھر پہنچ گئی۔ میں نے راستے میں جو کچھ دیکھا اس سے میں ششدر رہ گئی سڑکوں پر مسلح گروپ گھوم رہے تھے۔ میں نے نماز ادا کی اور تین دن تک روزہ رکھا۔

میں کچھ دنوں تک گھر سے نہیں نکلی جب تک میں ان حالات سے جن سے ہم گزر رہے تھے مانوس نہیں ہو گئی لیکن اپنی زندگی کے وہ لمحات میں کبھی بھول نہیں سکوں گی۔

اسی بارے میں