کشیدگی کے دوران امریکی نائب صدر کا دورۂ یوکرین

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یوکرین اور مغربی طاقتیں تسلسل سے روس پر یوکرین میں مداخلت اور باغیوں کی فوجی مدد کرنے کے الزامات لگاتی رہی ہے لیکن روس ان الزامات سے انکار کرتا آیا ہے

امریکی نائب صدر جو بائڈن نے روس کی طرف سے یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کے بارے میں بار بار خبردار کرنے کے دوران، کیئف میں یوکرینی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں۔

جو بائڈن سابق یوکرینی صدر وکٹر یانوکووچ کو اقتدار سے علیحدگی پر مجبور کرنے والے بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج کی سالگرہ کے موقع پر یوکرین کے دارالحکومت کیئف میں ہیں۔

انھوں نے صدر پیٹرو پوروشینکو اور وزیر اعظم آرسینی یاتسین یک سے ملاقاتیں کی ہیں۔

امریکی نائب صدر ایک ایسے وقت میں یوکرین کےدورے پر ہیں جب ستمبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد روس اور یوکرین کے مابین کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

واضح رہے کہ اپریل سے یوکرین کے مشرق میں روس نواز باغی سرکاری فوج کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔

یوکرین روس پر اس کے مشرقی علاقے میں ایک مکمل جنگ شروع کروانے کا الزام عائد کرتا ہے جبکہ روسی حکام نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ یوکرینی حکومت کو کسی بھی امریکی اسلحہ کی فروخت پالیسی میں تبدیلی کی آئینہ دار ہوگی اور اس سے ’تشویش ناک اشارے ملیں گے۔‘

ادھر انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کی دفتر کی جانب سے جاری ایک رپورٹ کے مطابق مشرقی یوکرین میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد سے اب تک اوسطاً 13 افراد روزانہ کے حساب سے ہلاک ہوئے ہیں جن کی تعداد 657 بتائی گئی ہے۔

اس نئی رپورٹ کے مطابق روس نواز باغیوں کے زیر کنٹرول قصبوں دونیسک اور لاہانسک میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔

رپورٹ میں یوکرین کی سرکاری فوج پر بھی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

یوکرین اور مغربی طاقتیں تسلسل سے روس پر یوکرین میں مداخلت اور باغیوں کی فوجی مدد کرنے کے الزامات لگاتی رہی ہے لیکن روس ان الزامات سے انکار کرتا آیا ہے۔

امریکہ نے یوکرین کی حکومت کی مدد کے لیے انھیں اب تک صرف غیر مہلک ہتھیار فراہم کیے ہیں لیکن کیئف میں رہنما اس سے بڑھ کر مطالبات کر رہے ہیں۔

امریکی حکام نے خبر رساں ادارے روائٹرز کو بتایا کہ یوکرین کو کوئی ہتھیار فراہم نہیں کیے جائیں گے جبکہ توقع ہے کہ نائب صدر جو بائڈن غیر مہلک ہتھیاروں کی مد میں یوکرین کی مدد میں اضافے کا اعلان کریں جن میں یوکرین ریڈار اور فوجی گاڑیوں کی ترسیل شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جو بائڈن نے صدر پیٹرو پوروشینکو اور وزیر اعظم آرسینی یاتسین یک سے ملاقاتیں کیں

امریکی حکام نے امریکہ کی طرف اٹھانے والے والے اقدامات کو یوکرینی فوج کے لیے مدد کا اظہار ہے لیکن یہ ایسا نہیں ہے جس کی وجہ سے یوکرین میں جاری کشیدگی کے نتائج میں تبدیلی ہو۔

جو بائڈن نے ایک یوکرینی اخبار کو بتایا ہے کہ نومنتخب یوکرینی پارلیمان کی جانب سے جمہوریت کو فروغ دینے اور بدعنوانی کا راستہ روکنے کے لیے اصلاحات کرنے میں تیزی لانے کی ضرورت ہے۔

امریکی نائب صدر نے کہا کہ روس مشرقی یوکرین میں اپنے حمائتیوں کے ذریعے اس مسئلے کا فوجی حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

جبکہ کیئف کے اکثر حصوں میں سابق صدر وکٹر یانوکوچ کو ہٹانے کے لیے احتجاج کی سالگرہ منائی جا رہی ہے، روس کے صدر ولادی میر پوتن نے جمعرات کو ماسکو میں ایک خطاب میں کہا کہ اس صدی میں عوامی انقلابات نے ’یوکرین، جارجیا اور کرغستان میں ’المناک نتائج دیے ہیں۔‘

اسی بارے میں