آئندہ برس تک ایبولا کا خاتمہ ممکن ہے: بان کی مون

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ مالی کے حالت بطور خاص تشویش کا باعث ہیں

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ اگر دنیا نے اپنی کوششوں میں اضافہ کیا تو مہلک ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو آئندہ سال کے وسط تک ختم کیا جا سکتا ہے۔

تاہم انھوں نے متنبہ کیا ہے کہ جہاں مغربی افریقی ممالک میں اس کی زد میں آنے والے افراد کی شرح میں کمی آئی ہے وہیں مالی میں اس کی وجہ سے چھ لوگوں کی اموات گہری تشویش کا باعث ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے ایبولا مشن کے سربراہ اینتھونی بینبری نے کہا کہ ’دنیا ابھی اس مہلک وائرس کو شکست دینے میں بہت پیچھے ہے۔‘

مغربی افریقہ کے تین ممالک گنی، سیئرا لیون اور لائبیریا ایبولا کی پھیلاؤ کی زد میں ہیں اور ان ممالک میں ابھی تک ایبولا سے تقریبا ساڑھے پانچ ہزار افراد کی موت ہو چگی ہے جبکہ نائجیریا، مالی، سپین اور امریکہ میں بھی چیدہ چیدہ واقعات پیش آئے ہیں۔

درین اثنا لائبیریا کی پولیس کا کہنا ہے کہ 29 نومبر سے لائبیریا کے تمام ساحلوں کو اس وقت تک کے لیے بند کر دیا جائے گا جب کہ ملک ایبولا سے پاک قرار نہیں دیا جاتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption لائبیریا کے تمام ساحلوں کو اس وقت تک کے لیے بند کر دیا جائے گا جب کہ ملک ایبولا سے پاک قرار نہیں دیا جاتا

پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اگر کسی کو پایا گیا تو اس کے خلاف عدالتی کارروائی کی جائے گی۔

عالمی صحت کی تنظیم ڈبلیو ایچ او ، عالمی بینک اور ائی ایم ایف کے اہلکاروں سے واشنگٹن میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بان کی مون نے کہا: ’اگر ہم اپنی کوششوں میں تیزی لاتے رہے تو ہم اس وبا کو آئندہ سال کے وسط تک ختم کردیں گے۔‘

انھوں نے مغربی افریقی ممالک میں مزید طبی عملوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک ایبولا سے لڑنے کے سلسلے میں بین الاقوامی کوششیں ہموار نہیں رہی ہیں۔

بان کی مون نے کہا: ’ہمارے کھیل کا انجام قریب نہیں ہے۔ ہمیں اس کے نئے مریضوں کے معاملے میں صفر تک جانا ہے۔ ایبولا ایسی بیماری نہیں ہے کہ آپ ایک دو مریض چھوڑ دیں اور کہیں کہ آپ نے بہت کر لیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اقوام متحدہ کے ایبولا مشن کے سربراہ اینتھونی بینبری نے کہا کہ ’دنیا ابھی اس مہلک وائرس کو شکست دینے میں بہت پیچھے ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ مالی کے حالت بطور خاص تشویش کا باعث ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ مارگرین چان سنیچر کو مالی کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے پہلے ہی اس ملک کے لیے ایک ٹاسک فورس کا اعلان کر دیا ہے تاکہ اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

اقوام متحدہ کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب مالی میں ایک معالج بھی اس مرض کا شکار ہوگیا۔ مرنے والے ڈاکٹر کے نام کا اعلان نہیں کیا گیا۔

مالی میں حکام کا کہنا ہے کہ تقریبا 500 افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

اسی بارے میں