’مغربی ممالک روس میں حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ RIA Novosti
Image caption ’مغرب صرف روس کو اس کی پالیسی میں تبدیلی پر مجبور نہیں کرنا چاہتا‘

روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے کہا ہے کہ یوکرین کے معاملے پر مغرب کا روس پر پابندیاں لگانے کا مقصد روسی قیادت کو تبدیل کرنا ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے ماسکو میں خارجہ اور دفاعی پالیسی کی کونسل کے شرکا سے خطاب میں مغرب کی جانب سے روس پر پابندیوں کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ اس مقصد’معیشت کو تباہ کر کے عوامی احتجاج کرانے‘ہیں۔

اس سے پہلے جمعرات کو روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا تھا کہ ان کا ملک کسی’ کلر ریولیشن‘ یعنی کسی رنگ سے منسوب عوامی انقلاب کے خلاف کھڑا ہو گا۔

انھوں نے ماسکو میں ایک خطاب میں کہا کہ اس صدی میں عوامی انقلابات نے ’یوکرین، جارجیا اور کرغستان میں ’المناک نتائج دیے ہیں۔‘

روسی وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے مزید کہا کہ’سنگین اقدامات کے استعمال کی سوچ کے تحت مغرب واضح کر رہا ہے کہ اس مقصد روس کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کرنا نہیں بلکہ یہ حکومت تبدیل کرنا چاہتا ہے۔‘

روسی وزیر خارجہ نے مغربی حکام کا نام لیے بغیر کہا کہ’مغربی ممالک کے رہنما کہتے ہیں کہ پابندیاں عائد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس سے معیشت تباہ ہو اور اس کے نتیجے میں عوام احتجاج پر اتر آئے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption اپریل سے یوکرین کے مشرق میں روس نواز باغی سرکاری فوج کے خلاف برسرِ پیکار ہیں

مغربی ممالک نے روس پر پہلی بار پابندیاں اس وقت عائد کی گئی تھیں جب ایک متنازع ریفرینڈم کے بعد اس نے یوکرین کے علاقے کرائمیا کو روس کا حصہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد روس میں تیل کی انڈسٹری، بینکوں، دفاعی کمپنیوں اور سینیئر روسی حکام پر پابندیاں عائد کی گئیں تھیں۔

اس سے پہلے گذشتہ ہفتے آسٹریلیا کے شہر برزبین میں جاری جی 20اجلاس کے موقعے پر صدر پوتن نے یوکرین کی کشیدگی میں روسی کی شمولیت پر امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے روس پر لگائی جانے والے پابندیوں کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے جتنا روس کو نقصان ہوگا اتنا ہی مغربی ممالک کو نقصان ہوگا۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا کہ یوکرین میں روس کی جارحیت دنیا کے لیے خطرہ ہے جبکہ برطانیہ نے دھمکی دی تھی کہ اگر روس نے اپنے پڑوسی کو ’غیر مستحکم‘ کرنا نہیں چھوڑا تو اس پر نئی پابندیاں لگائی جائیں گی۔

واضح رہے کہ روسی حکومت مشرقی یوکرین میں باغیوں کو بھاری اسلحہ اور فوجی امداد فراہم کرانے کے الزامات کی تردید کرتا ہے۔