’وینس آنا ہے تو سامان کمر پر لاد کر لاؤ‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وینس اٹلی کے معروف ترین شہروں میں ایک ہے اور یہاں سالانہ تقریبا پونے تین کروڑ سیاح آتے ہیں

آبی گزرگاہوں کے لیے دنیا بھر میں مشہور اطالوی شہر وینس میں حکام ایسے سوٹ کیس یا بیگوں پر پابندی لگانے پر غور کر رہے ہیں جنھیں گھسیٹنے کے لیے ان میں پہیے نصب ہوں۔

اس تجویز کی وجہ مقامی آبادی کی جانب سے کی گئی شکایات ہیں کہ پتھریلی گلیوں میں سامان گھسیٹنے کی آوازیں رات کو نیند میں خلل کا باعث بنتی ہیں۔

وینس اٹلی کے معروف ترین شہروں میں ایک ہے اور سیاحوں کے لیے انتہائی پرکشش ہے۔ یہاں سالانہ تقریبا پونے تین کروڑ سیاح آتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ وینس آنے والے سیاح ایسا سامان لانے سے گریز کریں جس میں پہیے نصب ہوں یا ایسے ربر کے پہیے استعمال کریں جن میں ہوا یا پانی بھرا ہو اور وہ شور نہ کرتے ہوں۔

اس اقدام سے شہر کی قدیم گلیوں کے محفوظ رہنے کا خیال بھی پیش کیا گیا ہے۔

وینس کی کونسل کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ منصوبہ شہر کے باسیوں کو خوش اور مطمئن کرنے کے لیے بنایا گيا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگر یہ منصوبہ نافذ کیا جاتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 500 یورو تک کا جرمانہ کیا جا سکتا ہے

بیان میں کہا گیا ہے: ’یہ منصوبہ ان متعدد شہریوں کے جواب میں تیار کیا گیا ہے جنھوں نے حالیہ دنوں مقامی کونسل میں یہ شکایت درج کرائی ہے کہ سامان کے لانے اور لے جانے سے کبھی کھبی دن اور رات میں انھیں شدید کوفت کا سامنا رہتا ہے۔

تاہم ایک ہوٹل کے منیجر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پابندی ناقابل عمل ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر گزرگاہ پرشور ہے تو اسے صحیح کرنا چاہیے نہ کہ سوٹ کیس کو۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اگر یہ پابندی نافذ کر دی جاتی ہے تو اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 500 یورو تک کا جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں