تیونس کے صدارتی انتخابات میں 54 فیصد ٹرن آؤٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدارتی انتخابات میں ووٹنگ کا ٹرن آؤٹ 54 فیصد رہا

تیونس میں سنہ 2011 کے انقلاب یا ’عرب سپرنگ‘ کے بعد پہلی بار اتوار کو صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ ہوئی۔

واضح رہے کہ ’بہارِ عرب‘ یا عرب سپرنگ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں انقلاب اور اقتدار کی منتقلی کا باعث بنا تھا۔

حکام کے مطابق ووٹ دینے کے اہل 50 لاکھ افراد میں سے 54 فیصد نے ووٹ ڈالے اور اس دوران بدامنی کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔

انتخابات کے نتائج رواں ہفتے کے اختتام تک متوقع ہیں اور اگر کوئی بھی امیدوار 50 فی صد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہا تو دوسرے دور کے انتخابات 31 دسمبر کو کرائے جائیں گے جس میں اتوار کے انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ پانے والے دو امیدوار میدان میں ہوں گے۔

اس صدارتی انتخابات میں 25 سے زیادہ امیدوار میدان میں ہیں لیکن برسرِاقتدار منصف مرزوقی اور اسلام پسند مخالف رہنما الباجی قائد ایسبسی کو جیت کا دعویدار کہا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ناقدین کا کہنا ہے کہ مسٹر ایسبسی ماضی کی جانب واپسی کی نمائندگی کرتے ہیں کیونکہ وہ بن علی کی حکومت میں عہدیدار تھے

یہ انتخابات ان سیاسی تبدیلیوں کا حصہ ہیں جو انقلاب کے نتیجے میں ملک کے حکمران زین العابدین کے ہٹائے جانے کے بعد ملک میں شروع ہوئے تھے۔ اسی سلسلے میں اکتوبر میں پارلیمان کے لیے انتخابات ہوئے تھے جبکہ صدارتی انتخابات میں کامیاب ہونے والا امیدوار بن علی کی برطرفی کے بعد ملک کا پہلا بلا واسطہ منتخب صدر ہوگا۔

تیونس کو بہار عرب کا نقطۂ آغاز تسلیم کیا جاتا ہے اور یہاں یہ سب سے کم خون خرابے کے ساتھ سب سے زیادہ کامیاب رہا ہے۔

ملک میں تمام تر پولنگ سٹیشن مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے کھلے جہاں 10 گھنٹے تک ووٹنگ جاری رہی۔

تیونس کے وزیراعظم مہدی جمعہ نے انتخابات سے قبل کہا تھا:’جسے لوگ بہار عرب کہتے ہیں ہم اس تبدیلی کے دائرے میں داخل ہونے والے پہلے لوگ ہیں۔ اور (اقتدار میں تبدیلی لانے والے) ہم ہی لوگ پہلے ہوں گے اور دوسرے ہماری تقلید کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ان انتخابات کے پیش نظر بڑے پیمانے پر سکیورٹی کا بندوبست کیا گیا

ندا تیونس (صدائے تیونس) نامی پارٹی کے رہنما مسٹر ایسبسی کی کامیابی کے بارے میں زیادہ امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ ان کی دو سال قبل وجود میں آنے والی پارٹی پارلیمانی انتخابات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے نمبر پر رہی تھی۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ الباجی قائد ایسبسی ماضی کی جانب واپسی کی نمائندگی کرتے ہیں کیونکہ وہ بن علی کی حکومت میں عہدیدار تھے اور آزادی کے بعد حبیب برقوبہ کی حکومت میں بھی شامل تھے۔

دوسرے امیدواروں میں مرزوقی، پارلیمانی سپیکر مصطفیٰ بن جعفر، ریپبلیکن پارٹی کے لیڈر احمد نجیب شابی، خاتون مجسٹریٹ کلثوم کنو اور تاجر سلیم ریاحی شامل ہیں۔

اسی بارے میں