عشقِ ممنوع

Image caption مصر میں دو مذاہب کے درمیان شادی بہت مشکل ہوتی جا رہی ہے

طارق نے اپنی یونیورسٹی کی ساتھی ہویدا کے ساتھ اپنے تعلق کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارا عشق پانچ سال تک چلتا رہا مگر میں نے اس دوران کبھی اُس کے ہاتھ کو بھی نہیں چھُوا۔‘

اور ہویدا کا رشتہ مانگنا تو اور بھی مشکل کام تھا۔

’میں بہت ہچکچا رہا تھا کیونکہ اگر میں اس کے سامنے اپنے احساسات تسلیم کر لیتا تو اس کے نتیجے میں میرے سارے خواب چکنا چور ہو جاتے۔ اس نے یقیناً اس تعلق سے انکار کر دینا تھا کیونکہ یہ روایات کے برعکس تھا۔‘

طارق مصری مسلمان ہیں جبکہ ہویدا قبطی عیسائی۔

بین المذاہب شادیاں بتدریج مصر میں ناقابلِ قبول ہوتی جا رہی ہیں اور جو بھی اس کے خلاف چلتا ہے اسے بھاری قیمت ادا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

اس کے باوجود ہویدا نے طارق کی جانب سے رشتہ منظور کر لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مصری قانون کے مطابق کسی عیسائی مرد کو مسلمان عورت سے شادی کے لیے مسلمان ہونا پڑے گا

طارق نے بتایا کہ ’یہ میری توقعات کے برخلاف تھا کیونکہ اس نے میرے ساتھ شادی کرنے کے لیے تمام رکاوٹوں کو عبور کرنے میں ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ یہ میری ساری زندگی کا خوشگوار ترین دن تھا۔‘

تاہم اس کے بعد آنے والی مشکلات ان کے رشتے کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہوئیں۔

مصر میں مذہب بہت حساس معاملہ ہے اور یہاں کئی مسیحی اور مسلمان اس بات کو قبول نہیں کرتے کہ لوگ مذہب چھوڑ دیں۔

مذہبی رہنما اکثر بین المذاہب شادیوں کو دوسرے مذاہب کے اراکین کو بھرتی کرنے کی کوشش سمجھتے ہیں جبکہ پادری جارج ماتا کہتے ہیں دیہی علاقوں میں ایسا بالکل ناقابلِ قبول ہے۔

پادری ماتا کہتے ہیں کہ ’میرا مشورہ ہے کہ لوگ اپنا جیون ساتھی اپنے ہی مذہب سے منتخب کریں۔‘

گذشتہ سال ایک مسلمان شخص ہلاک جبکہ پانچ دیگر افراد اس وقت زخمی ہو گئے تھے جب ایک دور دراز علاقے میں جھڑپیں ہوئی تھیں۔ اس واقعے میں پانچ عیسائیوں کے گھروں کو نذرِ آتش کر دیا گیا تھا۔

یہ جھڑپیں ایک مسلمان لڑکی اور اس کے عیسائی ہمسائے کے تعلقات کے نتیجے میں شروع ہوئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اکثر بین المذاہب شادیوں کی صورت میں جوڑوں کے خاندان انھیں عاق کر دیتے ہیں

فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پر لکھنے والے احمد عطاء اللہ کا کہنا ہے کہ ’ایسے واقعات اکثر ہوتے ہیں اور اُن کے پیچھے محبت اور عشق ہوتا ہے جسے سرکاری اخبارات میں کبھی کبھار ظاہر کیا جاتا ہے۔‘

آیا اور میلاد کا عشق تحریر چوک سے شروع ہوا جب 2011 میں حسنی مبارک کے خلاف مظاہرے عروج پر تھے مگر تین سال اکٹھے رہنے کے بعد بھی وہ تنگ آ گئے۔ وہ مصر میں شادی نہیں کر سکتے کیونکہ میلاد عیسائی مرد ہیں اور آیا مسلمان خاتون ہیں۔

مصری قانون کے تحت میلاد کو مسلمان ہونا پڑےگا جبکہ اس کے برعکس عیسائی عورت کو مسلمان مرد سے شادی کرنے کے لیے مذہب تبدیل نہیں کرنا پڑے گا۔

دونوں نے ملک سے فرار ہو کر شادی کا سوچا مگر اس سے مسئلہ حل نہیں ہوتا کیونکہ اس کے بعد وہ ملک نہیں لوٹ سکتے کیونکہ حکام کو ان کے بچوں کی شہریت کا اندارج کرنا ہو گا۔ اس طرح وہ مرتے دم تک ملک سے باہر رہنے پر مجبور ہوں گے۔

احمد عطاءاللہ کے مطابق بین المذاہب شادیاں اب مصر میں ختم ہوتی جا رہی ہیں کیونکہ ’جب ایک عیسائی عورت شادی کے اندراج کے لیے جاتی ہے تو حکام اُس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ چرچ کی طرف سے رضامندی کا سرٹیفیکیٹ لائے۔

عطااللہ کے مطابق ’مصری چرچ مسلسل ایسی شادیوں، حتیٰ کہ مختلف مسیحی فرقوں کے درمیان شادیوں پر رضامندی سے انکاری رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایک مسیحی پادری جارج ماتا کہتے ہیں کہ اپنے مذہب میں شادی کرنا بہتر ہے

عبیر محمد پہلے عیسائی تھے۔ انھوں نے 24 سال قبل ایک مسلمان خاتون سے شادی کی تھی۔ اُن کا کہنا ہے کہ جب اُن کی شادی ہوئی تھی تو ہر ایک نے انھیں مبارکباد دی مگر یہ وہی صوبہ ہے جہاں دو مختلف فرقوں کے ماننے والوں کے عشق کی وجہ سے پر تشدد واقعات ہوئے۔

اس کے باوجود دونوں کو بھاری قیمت چکانا پڑی۔ عبیر کے خاندان نے ایک مسلمان سے شادی کرنے کی پاداش میں انھیں عاق کر دیا اور جب شادی کے بعد عبیر اپنے والد کے پاس گئیں تو انھیں یاد ہے کہ اُن کے والد نے کہا کہ ’میری عبیر مر چکی ہے۔‘

طارق ہویدا کو اس طرح کی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے، حالانکہ وہ مسلمان ہونے پر رضامند تھیں۔

ان دونوں نے 2009 میں اپنا تعلق ختم کر دیا اور طارق کا خیال ہے کہ اگر یہ رشتہ بنتا تو اس سے ہویدا کے خاندان کی طرف سے ہی اُن کی زندگی کو خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔

طارق اب ایک باپردہ عورت کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہیں اور اُن کے خوبصورت بچے ہیں۔

تاہم طارق کا کہنا ہے کہ ’میرے لیے ایسا ممکن نہیں ہے کہ میں یہ کہہ سکوں کہ میں اپنی بیوی سے محبت کرتا ہوں۔ میں اب بھی اس عیسائی عورت کی محبت میں گرفتار ہوں جس سے میں ملا کرتا تھا۔ میں اسے کبھی نہیں بھلا سکوں گا۔‘

اس کہانی کے کرداروں کے نام اُن کی درخواست پر تبدیل کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں