ایران سے جوہری معاہدے کی حتمی مہلت میں توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ رات ویانا میں سفارت کار کسی معاہدے کے ڈھانچے پر بھی رضامند ہو سکتے ہیں

ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کے لیے حتمی مہلت میں جون 2015 کے آخر تک کی توسیع کے بعد امریکہ اور ایران نے کہا ہے کہ وہ ایرانی جوہری پروگرام پر معاہدے کے بارے میں پراعتماد ہیں۔

ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ معاہدہ ہونے کے امکانات روشن ہیں تاہم امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے متنبہ کیا ہے کہ اب بھی فریقین میں متعدد نکات پر اتفاقِ رائے نہیں پایا جاتا۔

عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان ویانا میں جاری مذاکرات پیر کی شب کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے تھے۔

ویانا مذاکرات ختم ہونے کے بعد برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس معاملے پر مذاکرات دوبارہ دسمبر میں شروع ہوں گے جن میں 30 جون 2015 تک کی توسیع کر دی جائے گی۔

اس مدت کے دوران ایران کو اجازت ہو گی کہ وہ اپنے منجمد اثاثوں میں سے 70 کروڑ ڈالر ماہانہ نکلوا سکے۔

پیر کی شام ایرانی دارالحکومت تہران میں اپنے بیان میں صدر روحانی نے کہا کہ فریقین کے درمیان موجود خلیج ’کم‘ ہوئی ہے۔

سرکاری ٹی وی پر ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سچ ہے کہ ہم ایک معاہدے پر نہیں پہنچ سکے لیکن ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بڑے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔

ادھر امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے زیادہ محتاط رویہ اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ ’ ٹھوس پیش رفت‘ ہوئی ہے لیکن اب بھی’ اہم نکات پر اختلاف باقی ہے‘

ویانا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’بات چیت صرف اس لیے آسان نہیں ہو جائے گی کہ ہم نے اس کی مدت بڑھا دی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بات چیت میں شامل ممالک ایران سے اس بات کا مظاہرہ چاہتے ہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ جوہری اسلحہ نہیں بنا رہا

بات چیت کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان میں ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جاوید ظریف اور یورپی یونین کی نمائندہ کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ ’ ان نئے خیالات کی بنیاد پر جو کہ سامنے آئے ہیں ایک جامع حل پر پہنچا جا سکتا ہے۔‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہم بات چیت کی تکمیل کے لیے موجودہ رفتار سے بڑھتے ہوئے کم سے کم وقت میں اسے مکمل کرنا چاہتے ہیں۔‘

اس سے قبل برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں اچھی پیش رفت ہوئی ہے لیکن پیر کی رات کی ’ڈیڈ لائن تک جامع معاہدے پر رضامندی ممکن نہیں تھی۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسٹر ہیمنڈ نے کہا کہ ’معاہدے پر نہ پہنچنا مایوس کن ہے، لیکن اندھے پن سے آگے بڑھتے چلے جانے کی بجائے ہمیں اس حقیقیت کو تسلیم کر لینا چاہیے کہ آج کی رات ہی کسی معاہدے پر پہنچنا ممکن نہیں تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ انھیں معلوم ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں میں سخت گیر عناصر معاہدے کے خلاف تھے، اسی لیے مذاکرات دسمبر میں جاری رہیں گے۔

مذاکرات میں تعطل آ جانے کے بعد روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ انھیں توقع ہے کہ اگلے تین چار ماہ میں جوہری معاہدے کے ’بنیادی اصولوں‘ پر اتفاق رائے ہو جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ ایران اپنی مشتبہ فوجی سرگرمیوں کے بارے میں خدشات دور کرے

دنیا کی چھ بڑی اقوام کے سفارت کاروں نے پیر کی شام ویانا میں ملاقات کی اور ان کے پاس 12 سال سے جاری اس تنازعے کو ختم کرنے کے لیے گرینچ وقت کے مطابق رات 11 بجے تک کا وقت تھا۔

عالمی سفارت کاروں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر ابھی بڑے بڑے اختلافات باقی ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ مذاکرات کے لیے مزید وقت لیا جائے۔

واضح رہے کہ امریکہ، روس، چین، فرانس اور جرمنی کی کوشش ہے کہ ایران کے ساتھ اس معاہدے کو حتمی شکل دی جائے جس پر ابتدائی رضامندی گذشتہ برس جنیوا میں ہو گئی تھی۔

مذاکرات میں شامل ممالک ایران سے اس بات کا مظاہرہ چاہتے ہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ جوہری اسلحہ نہیں بنا رہا ہے جبکہ ایران کہتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر توانائی سے متعلق ہے۔

دوسری جانب جوہری پروگراموں پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ ایران اپنی مشتبہ فوجی سرگرمیوں کے بارے میں خدشات دور کرے جو اس کے جوہری پروگرام سے منسلک ہو سکتی ہیں۔

ایران نے آئی اے ای اے سے کہا تھا کہ وہ اگست تک اس بارے میں تفصیلات فراہم کرے گا تاہم اس نے ایسا نہیں کیا، یہاں تک کہ معائنہ کاروں کو ایک اہم فوجی اڈے پارچن میں جانے کی اجازت بھی نہیں دی۔

اسی بارے میں