ایران امریکہ تعلقات کے 60 سال

امریکی انٹیلیجنس ایجنسی سی آئی اے کی مدد سے 1953 میں ایرانی وزیر اعظم کا تختہ الٹنے سے لے کر صدر براک اوباما کا ایرانی صدر روحانی کو فون کال اور ممکنہ طور پر عراق کی صورتحال پر بات چیت تک پر بی بی سی نے ایران اور امریکہ کے تعلقات پر نظر ڈالی ہے۔

1953: محمد مصدق کی حکومت ختم کرنا

تصویر کے کاپی رائٹ Hulton Archive

امریکی اور برطانوی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے ایران کے منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کی حکومت ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ایران کے سیکولر رہنما نے ایران کی تیل کی صنعت کو نیشنلائز کرنے کی کوشش کی تھی۔

1979: ایران میں انقلاب

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کئی مہینوں سے جاری مظاہروں کے باعث امریکہ کے حمایت یافتہ شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کو 16 جنوری کو ملک چھوڑنا پڑتا ہے۔

دو ہفتے بعد آیت اللہ خمینی فرانس میں سے جلا وطنی سے ایران پہنچتے ہیں۔ یکم اپریل کو ریفرینڈم کے ذریعے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ ایران رکھ دیا جاتا ہے۔

1979-81: امریکی سفارتخانہ واقعہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی سفارتخانے میں امریکیوں کو یرغمال بنا لیا جاتا ہے۔ ان کو رہا کرانے کی کوشش ناکام ہوتی ہے اور امریکی فوجی ہیلی کاپٹر اور سامان بردار جہاز کے درمیان تصادم میں آٹھ فوجی ہلاک ہو جاتے ہیں۔

امریکی سفارتخانے کے آخری 52 یرغمال بنائے گئے افراد کو 444 روز تک حراست میں رکھے جانے کے بعد رہا کردیا گیا۔

تاریخ دان گیڈس سمتھ کہتے ہیں: ’جب سے لوگوں کو یرغمال بنایا گیا اور رونلڈ ریگن کے حلف اٹھانے کے چند ہی منٹ بعد ان افراد کی رہائی کے درمیان کے 444 روز میں امریکی حکام کی توجہ کا مرکز یہی معاملہ رہا۔ اور دوسری جنگ عزیم کے بعد سے کسی بھی واقعے کو ٹی وی اور پریس میں اتنی کوریج نہیں ملی جتنی اس واقعے کو ملی۔‘

1985-86: ایران کونٹرا افیئر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لبنان میں حزب اللہ کی قید میں امریکی افراد کی رہائی کے لیے امریکہ نے ایران کو خفیہ طور پر اسلحہ فراہم کیا۔

اس فروخت سے بننے والا منافعے سے نکاراگوا میں باغیوں کی مدد کی گئی۔ یہ معاملہ ریگن کے لیے ایک بڑا سیاسی مسئلہ بنا۔

1988: ایرانی مسافر بردار جہاز گرا دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی بحری جنگی جہاز یو ایس ایس ونسنز نے تین جولائی 1988 میں خلیج میں ایران کا مسافر طیارہ مار گرایا جس میں 290 افراد ہلاک ہوئے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ ایئر بس 300 کو غلطی سے لڑاکا طیارہ سمجھا گیا۔ ہلاک ہونے والے زیادہ تر مسافر مکہ جا رہے تھے۔

1997-2005: خاتمی کی صدارت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سنہ 1997 میں اصلاح پسند محمد خاتمی ایران کے صدر منتخب ہوئے۔

اگلے ہی سال انھوں نے ایک امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں ’امریکی عوام کے ساتھ مذاکرات‘ کرنے کا کہنا۔ دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہونے کا عندیہ ملا لیکن کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوئی۔

2002: ’Axis Of Evil‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

امریکی صدر جارج بش نے 2002 میں اپنے سٹیٹ آف دی یونین ایڈریس میں ایران پر تنقید کی اور اس کو عراق اور جنوبی کوریا کے ہمراہ ایکسس آف ایول یعنی شیطانی ممالک قرار دیا۔

اس تقریر کے خلاف ایران میں شدید غصہ پایا گیا۔

2002 اور آگے: جوہری خدشات اور پابندیاں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سنہ 2002 میں ایرانی حکومت کے مخالفین نے انکشاف کیا کہ ایران جوہری تنصیب تیار کر رہا ہے بشمول نطنز میں یورینیئم کی افژودگی کے پلانٹ اور اراک میں ہیوی واٹر ری ایکٹر کے۔

امریکہ نے ایران پر خفیہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کا الزام عائد کیا جبکہ ایران نے اس الزام کی تردید کی۔

ایک دہائی تک ایران اور جوہری پروگراموں پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کے درمیان مذاکرات ہوتے رہے۔

اقوام متحدہ نے 2006 اور 2010 کے درمیان ایران پر چار بار پابندیاں عائد کیں۔

امریکہ اور یورپی یونین نے ایران پر پابندیاں عائد کیں اور 2012 میں مالی صنعت کو بھی پابندیوں کی لپیٹ میں لے آئے۔ کئی دیگر ممالک نے بھی ایران پر پابندیاں عائد کیں۔

سنہ 2013 میں امریکی محکمہ خزانے نے کہا کہ دو سال میں ایران کی کرنسی کی قدر دو تہائی کم ہوئی ہے۔

2005-13: احمدی نژاد کی صدارت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

قدامت پسند محمود احمدی نژاد جون 2005 میں صدر منتخب ہوئے۔

محمود احمدی نژاد کی جانب سے بازیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل عام یعنی ہولوکوسٹ کی حقیقت پر سوالیے نشان اٹھانے پر ایران اور مغرب کے درمیان تعلقات خراب ہو گئے۔

امحدی نژاد کی جانب سے دوسری بار صدر منتخب کرنے پر تنازع پیدا ہوا۔

2010 میں اقوام متحدہ میں تقریر کے دوران کئی ممالک نے واک آؤٹ کیا جب احمدی نژاد نے دعویٰ کیا کہ زیادہ تر لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے پیچھے امریکی حکومت تھی۔

2013: اوباما کی روحانی کو فون کال

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اقوام متحدہ کے فورم میں شرکت کے لیے آئے ہوئے صدر روحانی اور صدر اوباما کے کی فون پر بات چیت ہوئی۔ 30 برسوں میں یہ پہلا موقع تھا جب دونوں ممالک کے رہنماؤں کی بات ہوئی ہو۔

صدر روحانی نے اپنے ٹویٹر پر اس فون کال کا ذکر کیا۔

2014: عراق پر ایران اور امریکہ کے مذاکرات

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اطلاعات کے مطابق امریکہ ایران کے ساتھ عراق کی صورتحال پر براہ راست بات چیت کا ارادہ رکھتا ہے۔ عراق میں دولت اسلامیہ نے کئی اہم شہروں پر قبضہ کر لیا ہے۔

ایران اور امریکہ دونوں ہی دولت اسلامیہ کو روکنے کے حق میں ہے اور دونوں ہی ممالک عراق میں حکومت کو ہتھیار فراہم کر کے مدد کرنا چاہتی ہے۔

اسی بارے میں