اوپیک کم تیل نکالے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تیل کی قیمتوں میں کمی اوپیک کے کچھ ارکان کے لیے خاصا بڑا مسئلہ بن چکا ہے

خاصے عرصے بعد تیل برآمد کرنے والی ممالک کی تنظیم اوپیک ایک مرتبہ پھر خبروں میں ہے۔

ہر کسی کے ذہن میں یہی سوال ہے کہ جون سے تیل کی قیمتوں میں جو 30 فیصد کمی ہو چکی ہے اوپیک کے پاس اس کا کیا جواب ہے؟

تنظیم کے 12 رکن ممالک کے وزرائے توانائی رواں ہفتے اوپیک کے صدر دفتر جنیوا میں مذاکرات کر رہے ہیں۔

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ تیل کی قیمتیں بڑھانے کے لیے آیا رکن ممالک اپنی پیداوار کم کرنے پر متفق ہو جائیں گے یا نہیں۔

تیل کی قیمتوں میں کمی اوپیک کے کچھ ارکان کے لیے خاصا بڑا مسئلہ بن چکا ہے کیونکہ ان ممالک کے سرکاری اخراجات کا بہت بڑا انحصار تیل سے آمدن پر ہے۔

اگرچہ سعودی عرب کی سرکاری آمدن کا 90 فیصد تیل سے آتا ہے، تاہم کئی دیگر ممالک کے مقابلے میں سعودی عرب قیمتوں میں کمی کو بہتر طریقے سے برداشت کر سکتا ہے۔

لیکن ایران کے لیے قیمتوں میں کمی خاصا بڑا مسئلہ ہے، اور اوپیک سے باہر کے ممالک میں روس کے لیے بھی یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔

پیداور کم کریں یا نہ کریں؟

ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو اوپیک ممالک کو درپیش مسئلے کا حل زیادہ پیچیدہ نہیں۔ یہ ممالک اپنی تیل کی پیداوار کم کر سکتے ہیں جس سے اگر قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوتا تو قیمتیں کم از کم مزید گرنے سے تو رک جائیں گی۔

تیل کی عالمی پیدوار کا 40 فیصد اوپیک ممالک پیدا کر رہے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تنظیم تیل کی پیداوار اور قیمتوں پر خاصی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب یہ ممالک اپنی پیداواری حدود کے اندر رہیں، لیکن حقائق بتاتے ہیں تیل برآمد کرنے والے کئی ممالک اکثر اپنی اپنی پیداواری حد کی پرواہ نہیں کرتے۔

اوپیک کے چند ارکان پیداوار میں کمی پر زور دے چکے ہیں، جن میں ایران اور وینزویلا بھی شامل ہیں۔دوسری جانب کویت کہہ چکا ہے کہ اس کی پیداوار کم ہونے کا امکان نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں کویت اس معاملے میں ایران اور وینزویلا کی حمایت نہیں کر رہا۔ کویت اور دیگر خلیجی ریاستیں کم قیمتوں پر بھی بہتر گزارہ کر سکتی ہیں۔

اگر ہمیں کسی ملک کا نہیں پتہ تو وہ اوپیک کا سب سے بڑا کھلاڑی سعودی عرب ہے۔ اگرچہ ماضی میں تیل کی عالمی قیمتوں میں ٹھہراؤ لانے کی غرض سے سعودی عرب اکثر دیگر ممالک کی رہنمائی کرتا رہا ہے، لیکن کھبی کبھار سعودی عرب ’سوِنگ پروڈیوسر‘ کا کردار بھی ادا کرتا رہا ہے جہاں وہ اپنی مرضی سے پیدوار کم یا زیادہ کر دیتا تھا۔

اس مرتبہ سعودی عرب اس معاملے میں خود سے کوئی ذمہ داری لینے سے کترا رہا ہے۔اس کی ایک مثال قیمت میں وہ رعایتیں ہیں جو اس نے حال ہی میں اپنے کچھ خریداروں کو دی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب عالمی منڈی میں اپنا حصہ ہرصورت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کیا تیل کی عالمی جنگ شروع میں امریکہ اور سعودی عرب ایک طرف اور روس اور ایران دوسری جانب سے صف آرا ہو چکے ہیں؟

اوپیک کے ردعمل کے بارے میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال کا عکس ہمیں تجزیہ کاروں کی آراء میں بھی دکھائی دے رہا ہے۔ بلومبرگ کے 20 تجزیہ کاروں کے ایک حالیہ جائزے میں بھی یہ تضاد اس وقت نمایاں ہوگیا جب دس ماہرین نے کہا کہ انھیں پیداوار میں کمی کی توقع ہے جبکہ دوسرے دس کا خیال تھا کہ پیداوار میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

توانائی کے بین الاقوامی ادارے ’انٹرنیشنل انرجی ایجنسی‘ کے خیال میں اوپیک ممالک ایک درمیانی راہ بھی اپنا سکتے ہیں، اور وہ یہ کہ اوپیک ممالک تین کروڑ بیرل یومیہ کی پیداواری حد کو تبدیل نہ کریں لیکن اس بات پر ضرور متفق ہو جائیں کہ وہ موجودہ پیداوار کو کم کر کے تین کروڑ بیرل یومیہ کے جتنا قریب لا سکتے ہیں لے آئیں گے۔ یاد رہے کہ اکتوبر کے اعداد و شمار کے مطابق اوپیک کی مجموعی پیداوار چھ لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ چکی تھی۔

رسد و طلب

اوپیک کو جس مخمصے کا سامنا ہے وہ اُس تضاد کی عکاسی کرتا ہے جو ہمیں تیل کی عالمی منڈی میں رسد اور طلب دونوں میں دکھائی دیتا ہے۔

گذشتہ چند برسوں سے جاری معاشی مندی کی وجہ سے دنیا میں تیل کی مانگ میں کمی ہو چکی ہے۔ اس کا عکس ہمیں یورپی یونین کے ممالک کی حالیہ معاشی بدحالی اور چین اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں ترقی کی رفتار سست ہو جانے میں بھی دکھائی دیتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ امریکہ میں شیل سے تیل کے حصول میں تیزی آ جانے کے بعد یہ بات یقینی ہو گئی ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی رسد میں کوئی کمی نہیں ہونے جا رہی۔ شیل کے انقلاب سے پہلے امریکہ میں تیل کی پیداوار میں مسلسل کمی آتی جا رہی تھی، لیکن جولائی سے امریکی تیل کی پیداوار میں بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔

اس کے علاوہ امریکی ڈالر کے مضبوط ہونے سے بھی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر اثر پڑا ہے۔ چونکہ تیل کی قیمت ڈالروں میں طے ہوتی ہے اس لیے ڈالر کی قدر میں اضافے کی وجہ سے کسی دوسری کرنسی میں تیل خریدنا مہنگا پڑتا ہے، جس سے تیل کی طلب میں مزید کمی ہو جاتی ہے۔دوسرے الفاظ میں، وہ ممالک جن کی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہو چکی ہے وہ عالمی منڈی میں تیل کے سستے ہونے سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

ایک عجیب بات جو حالیہ عرصے میں دیکھنے میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ تیل کی عالمی منڈی نے مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ ماضی میں جب بھی مشرق وسطیٰ میں حالات خراب ہوتے تھے تیل کی قیمتوں میں بہت اضافہ ہو جاتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ RIA Novosti
Image caption گذشتہ ہفتہ روس کے وزیر برائے معاشت ترقی کا کہنا تھا کے کم قیمتوں سے روسی عوام اور روسی کمپنیوں کو مسائل کا سامنا ہے

یہ سچ ہے کہ جون میں ایک مختصر مدت کے لیے اس وقت قیمتوں میں اضافہ ہو گیا تھا جب تیل کی منڈیوں کو احساس ہوا کہ دولتِ اسلامیہ خطے میں بہت زور پکڑ چکی ہے۔

لیکن جوں ہی یہ واضح ہو گیا کہ دولتِ اسلامیہ والے جنوبی عراق میں تیل کے کنوؤں کو نشانہ نہیں بنائیں گے تو قیمتوں میں اضافے کا رجحان بھی ختم ہوگیا۔

اسی طرح لیبیا میں سیاسی بے چینی اور اس کی تیل کی پیداوار میں بے یقینی کے دوران بھی عالمی منڈیاں زیادہ متاثر نہیں ہوئیں۔

سازشی نظریات

تیل کی قیمتوں میں کمی کے بارے میں کچھ سازشی نظریات بھی پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک نظریہ یہ ہے کہ سعودی عرب جان بوجھ کر کم قیمت پر زیادہ سے زیادہ تیل برآمد کر رہا ہے تا کہ شیل سے حاصل کیے جانے والے تیل کو کم منافع بخش کاروبار بنائے اور یوں تیل کی دنیا میں آنے والے نئے کردار کو کمزور کر دے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اوپیک کو درپیش مسائل مزید پیچیدہ ہو چکے ہیں

دوسری جانب کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے کچھ مشترکہ سیاسی مقاصد ایسے ہیں جن کو حاصل کرنے کے لیے تیل کی قیمتیں کم رکھنا مددگار ہو سکتا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مشہور کالم نگار ٹام فریڈمین کہتے ہیں: ’یہ صرف میرا وہم ہے یا اس میں کوئی صداقت ہے کہ تیل کی ایک عالمی جنگ شروع ہو چکی ہے جس میں امریکہ اور سعودی عرب ایک طرف اور روس اور ایران دوسری جانب صف آرا ہو چکے ہیں۔‘

ٹام فریڈمین کہتے ہیں کہ کہیں امریکہ اور سعودی عرب مل کر روس کے خلاف وہی کچھ تو نہیں کرنے جا رہے جو انھوں نے سوویت یونین کے خلاف کیا تھا اور ’تیل نکال نکال کر‘ سوویت یونین کو جیتے جی مار دیا تھا۔

اس قسم کے سازشی نظریات کے بارے میں صاف ظاہر ہے کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔ اگر کوئی حتمی بات کی جا سکتی ہے تو وہ یہی ہے کہ اس وقت طلب اور رسد کی طاقتوں نے تیل کی عالمی منڈی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور اس سے اوپیک کو درپیش مسائل مزید پیچیدہ ہو چکے ہیں۔