تھائی لینڈ میں’انتخابات میں تاخیر ہو سکتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تھائی وزیرِ خزانہ صومائی فاسی نے کہا کہ شاید انتخابات سنہ 2016 تک منعقد ہوں

تھائی لینڈ کے وزیرِ خزانہ نے کہا ہے کہ ملک میں فوج کی حکومت ختم کرنے کے لیے ہونے والے انتخابات کے انعقاد میں ڈیڑھ سال تک کی تاخیر ہو سکتی ہے۔ اس سے پہلے تھائی وزیرِ اعظم نے سنہ 2015 میں انتخابات کرانے کا عندیہ دیا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہوئے تھائی وزیرِ خزانہ سومائی فاسی نے کہا کہ شاید انتخابات سنہ 2016 تک منعقد کیے جائیں اور انتخابات کے انعقاد کی تاریخ کے بارے میں انھوں نے ملک کے وزیرِ اعظم پرایوتھ چان اوچا سے بات چیت کی ہے۔

عسکری گروہ کے سربراہ پرایوتھ چان اوچا نے مئی میں بغاوت کر کے منتخب حکومت کو ختم کیا تھا۔

بی بی سی کی بزنس کی نامہ نگار لنڈا یوہ سے بات کرتے ہوئے سومائی فاسی نے کہا کہ وزیرِاعظم سے گفتگو کے بعد ’مجھے لگتا ہے کہ انتخابات کے انعقاد میں شاید ڈیڑھ سال لگ سکتا ہے۔‘ اس سے پہلے تھائی وزیرِ اعظم نے سنہ 2015 میں انتخابات کرانے کا عندیہ دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption اس سے پہلے تھائی وزیرِ اعظم نے سنہ 2015 میں انتخابات کرانے کا عندیہ دیا تھا

ملک کے ڈپٹی وزیرِ اعظم اور وزیرِ دفاع پراویت ونگسووان نے بھی صحافیوں کو انتخابات سنہ 2016 میں کرانے کی تصدیق کی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ان کے حوالے سے بتایا کہ ’اسی وقت انتخابات ہوں گے جب اگر آئین تیار ہو جائے۔‘

تھائی فوج کا موقف ہے کہ ملک میں مہینوں تک جاری سیاسی تعطل کو ختم کرنے کے لیے فوجی بغاوت ضروری تھی۔

تھائی لینڈ میں اس وقت مارشل لا نافذ ہے اور گذشتہ ہفتے وزیرِ انصاف پائبون کومچایا نے کہا تھا کہ مارشل لا ’غیر معینہ مدت تک نافذ رہے گا۔‘

بہت سے تھائی لوگوں نے مارشل کو خوش آمدید کہا تھا لیکن ملکی اور بین الاقوامی سطح پر فوج کے اقتدار میں رہنے پر مایوسی بڑھ رہی ہے۔

اسی بارے میں