آیا صوفیہ بڑی تہذیبوں کے تصادم کی داستان

تصویر کے کاپی رائٹ Goktay koraltan
Image caption ترکی کے ایک قدامت پسند عیسائی چرچ میں لوگ دعا کر رہے ہیں

استنبول کی تاریخی عمارت آیا صوفیہ بڑی طاقتوں، تہذیبوں اور مذاہب کے تصادم داستان سناتی ہے۔ اس میں موجود عیسیٰ علیہ السلام اورحضرت مریم کی پچی کاری کے ساتھ ساتھ ’اللہ‘ اور ’محمد‘ کی خطاطی بھی موجود ہے۔

تقریباً ایک ہزار سال سے یہ عمارت دنیا کا اہم ترین آرتھوڈاکس گرجا تھی۔ یہ عیسائی بازنطینی دور کا مذہبی مرکز تھی جس کا دارالحکومت قسطنطنیہ کہا جاتا تھا۔

لیکن سنہ 1453 میں یہ شہر عثمانیوں کے قبضہ میں آگیا، آیا صوفیہ کو مسجد میں تبدیل کر دیا گیا اور یہاں سے اس خطے سے عیسائیت آہستہ آہستہ ختم ہونے لگی۔

جب ترکی عثمانیہ کے دور سے باہر نکلا تو عیسائی مذہب کے ماننے والوں کی آبادی میں تیزی سے کمی آنے لگی۔ جب پوپ فرانسس اگلے ہفتے یہاں آئیں گے تو وہ ایک ایسے ملک کا دورہ کریں گے جس کی عیسائی آبادی سو سال پہلے 20 فیصد سے کم ہو کر آج صرف 0.2 فیصد رہ گئی ہے۔

مصنف چنگیز اختر کہتے ہیں: ’خطے میں ایران سمیت کسی بھی ملک میں اتنی مذہبی یکسانیت نہیں جتنی ترکی میں دیکھنے میں آتی ہے۔ یہ ایک صاف صاف اسلامی ملک ہے۔‘

جب جمہوریہ ترکی سنہ 1923 میں وجود میں آیا تو اس نے یونان کے ساتھ ایک طرح کی ’آبادی کا تبادلہ‘ کیا تھا تاکہ زیادہ نسلی اور مذہبی ہم آہنگی پیدا کر سکے۔ دس لاکھ سے زائد یونانیوں کو ترکی سے یونان میں منتقل کیا گیا اور یونان سے تقریباً تین لاکھ مسلمانوں کو ترکی لایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Unknown
Image caption مصنف چنگیز نے اختر ترکی کی یونانی آبادی کی نقل مکانی پر ایک نمائش منعقد کی ہے

استنبول کے یونانیوں کو ابتدا میں زیادہ نہیں چھیڑا گیا لیکن لیکن دولت پر لاگو بڑے ٹیکس کی وجہ سے، اور پھر سنہ 1955 میں یونانیوں کے منظم قتلِ عام اور سنہ 1964 میں بڑے پیمانے پر اخراج کی وجہ سے یونانی برادری بالکل بکھر گئی، اور اس کے ساتھ ان کا مذہب آرتھوڈوکس عیسائیت بھی۔

ترکی میں دوسری بڑی مسیحی برادری آرمینی بھی بری طرح متاثر ہوئی۔ سنہ 1915 میں لاکھوں آرمینی جلاوطن کر دیئے گئے۔ انھیں یا تو قتل کر دیا گیا یا پھر وہ بھوک اور بیماری کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ یہ الگ بات کہ ترک حکومت ’نسل کشی‘ کے لیبل کو رد کرتی ہے۔ ترکی میں 20 لاکھ آرمینیوں کی آبادی میں اب صرف تقریباً 50 ہزار رہ گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آیہ صوفیا استنبول میں سیاحوں کی دلچسپی کا سب سے بڑا مرکز ہے

رابرٹ کوپٹاس نے مجھے اپنے آرمینی اخبار ’اگوس‘ کے دفتر میں بلایا۔ سنہ 2007 میں ترک قوم پرستوں نے اس اخبار کے مدیر ہرانت دنک کو دفتر کے باہر قتل کر دیا تھا۔ سات سال بعد رابرٹ کہتے ہیں کہ خطے کی چھوٹی آرمینی برادری خوف زدہ محسوس کرتی ہے۔

انھوں نے کہا: ’آرمینی یہاں پر اپنی مذہبی پہچان ظاہر کرنے سے ڈرتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ اپنی صلیبوں کو قمیضوں کے اندر پہنتے ہیں۔ ہم لوگ صلیب کھلے عام پہن کر نہیں چل سکتے کیونکہ اس پر سخت رد عمل بھی آ سکتا ہے۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ ترکی کی پوری آبادی عیسائیت کے خلاف ہے لیکن یہاں اتنی زیادہ قوم پرستی ہے کہ لوگ کچھ ظاہر کرنے سے ڈرتے ہیں۔‘

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کی اسلام پسند حکومت میں مسلمان قوم پرستی بڑھ رہی ہے۔

صدر نے عیسائیوں کی حمایت کے لیے کچھ قدم اٹھائے ہیں جیسے کہ انھوں نے ایک قانون منظور کیا کہ عیسائیوں کی ضبط جائیدادیں انھیں واپس دی جائیں اور انھوں نے سکولوں کی مذہبی کلاسوں میں عیسائیت کی تعلیم دینے کی اجازت بھی دی ہے۔ لیکن وہ اپنی اسلامی شناخت مسلسل ظاہر کرتے ہیں۔ وہ قدامت پسند اسلام کے حامی ہیں اور قوم پرستوں کو اپنی طرف مائل کرتے ہیں۔ عیسائیوں کے خلاف رویے سخت ہو رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Goktay koraltan
Image caption رابرٹ کوپٹاس کا کہنا ہے کہ آرمینی عیسائیوں ترکی میں اپنے مذہبی تشخص کا اظہار کرنے سے ڈرتے ہیں

سنہ 1923 میں قائم ترکی جمہوریہ کو آئینی طور پر سیکیولر قرار دیا گیا تھا اور مذہب کو ریاست سے الگ رکھا گیا تھا۔ لیکن مذہب ترکی کی شناخت کا حصہ بن گیا اور صدر اردوگان کی قیادت نے بھی اسے بڑھاوا دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Goktay koraltan
Image caption آج استنبول میں ہونے والی اجتماعی عبادت اور دعا قسطنطنیہ کے بڑے پادری کے زیر نگرانی ہوئی

نئی مسجدیں بن رہی ہیں، جبکہ استنبول میں دنیا کا مشہور آرتھوڈوکس مذہبی سکول ترک قوم پرستوں کے دباؤ کی وجہ سے سنہ 1970 سے اب تک بند ہے۔

ترکی کے بچے کھچے یونانیوں میں سے ایک فوٹس بینلیسوی کہتے ہیں کہ ان کی برادری پر عرصۂ حیات تنگ کی جا رہی ہے: ’یہاں پر غیر مسلم پھر سے خطرہ محسوس کرنے لگے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’اس کی کئی وجوہات ہیں۔ حکومت کی زبان اور پالیسیاں، صدر اور وزیر اعظم سنی شناخت کی قدامت پسند کے حوالے دیتے ہیں، ترکی اور دولت اسلامیہ کی تعلقات کی خبریں بھی پورے ملک میں تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہیں۔ یہ سب سن کر ہمیں لگتا ہے کہ غیر مسلمان اقلیتوں کے لیے پھر سے خطرہ بڑھ رہا ہے۔‘

آج استنبول میں ہونے والی اجتماعی عبادت اور دعا قسطنطنیہ کے بڑے پادری کے زیر نگرانی ہوئی۔

یہ تقریب ملک کے تاریخی احساس کی یاد دہانی کراتی ہے اور ایک وفادار عیسائی برادری کی عکاسی کرتی ہے جس کے حوصلے چھوٹی ہونے کے باوجود ابھی تک بلند ہیں۔

جدید ترکی اپنی شناخت بنا رہا ہے، لیکن ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا ترکی سچی مذہبی آزادی کو گلے لگا سکتا ہے؟ یا پھر قوم پرستی اس کے راستے میں رکاوٹ بن جائے گی؟

اسی بارے میں