’یورپی تارکین وطن کی امداد پر پابندیوں کی حمایت کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برطانوی وزیرِ اعظم کے مطابق حالیہ برسوں میں امیگریشن میں اضافے نے عوامی خدمات پر ناقابلِ برداشت دباؤ ڈالا ہے

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے یورپی یونین کے دیگر رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ یورپی تارکینِ وطن کے حکومتی امداد کے حصول پر پابندیاں لگانے کی تجاویز کی حمایت کریں۔

انھوں نے کہا ہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین کا رکن رہنے کے لیے مستقبل میں ہونے والی بات چیت میں یورپ سے کم افراد کی برطانیہ منتقلی کے معاملے کو ترجیح دی جائے گی اور اگر ان کی بات نہ سنی گئی تو اس کا نتیجہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

وزیرِ اعظم کیمرون کی تجاویز کے تحت تارکینِ وطن کو مخصوص حکومتی امداد حاصل کرنے کے لیے چار برس انتظار کرنا پڑے گا۔

مغربی مڈلینڈز میں واقع ایک کارخانے میں خطاب کرتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ وہ برطانیہ میں یورپی ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن کی آمد کی بنیاد تبدیل کر سکتے ہیں۔

انھوں نے خبردار کیا کہ اگر برطانیہ کے مطالبات نہ مانے گئے تو’کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘ ان کے اس بیان کو 2017 میں برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کی افواہوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

کیمرون نے اپنی تقریر میں تجاویز پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یورپی تارکینِ وطن کو بےروزگاروں کے لیے حکومتی امداد اور سرکاری رہائش کے حصول کے لیے چار برس انتظار کرنا ہوگا۔ جبکہ انھیں ایسے بچوں کے لیے مالی امداد نہیں ملے گی جو برطانیہ سے باہر مقیم ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر یورپی تارکینِ وطن برطانیہ میں چھ ماہ تک کام تلاش نہیں کر سکے تو انھیں واپس جانا ہوگا، اس کے علاوہ ان تارکین پر اپنے اہلِ خانہ کو برطانیہ لانے کے لیے بھی کچھ شرائط عائد ہوں گی۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا کہ انھیں کوئی شک نہیں کہ ان کی تجاویز پر عمل درآمد کے لیے یورپی یونین کے معاہدوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ تارکین وطن برطانیہ کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں اور انھیں جدید برطانیہ کی کثیر الثقافتی نوعیت پر فخر ہے لیکن حالیہ برسوں میں امیگریشن میں اضافے نے عوامی خدمات پر ناقابلِ برداشت دباؤ ڈالا ہے۔

ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ’ہماری بات سنی جانی چاہیے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جو برطانوی عوام اور یورپی یونین میں ہمارے مستقبل سے وابستہ ہے۔‘

سیاسی امور کے لیے بی بی سی کے مدیر نک رابنسن کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ کیمرون کی یہ تجاویز ’لیبر اور لبرل ڈیموکریٹ پارٹیوں کی جانب سے پیش کردہ حکمتِ عملی کا ایک سخت ورژن ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومتی امداد کے لیے چار برس تک انتظار کی شرط پر یورپی یونین کو راضی کرنا آسان نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں