نائیجیریا: کانو کی مسجد میں دھماکہ اور فائرنگ، درجنوں ہلاک

Image caption اطلاعات کے مطابق جمعہ کی نماز کے دوران تین دھماکے ہوئے اور اس کے بعد حملہ آوروں نے نمازیوں پر فائرنگ کی

اطلاعات کے مطابق افریقی ملک نائیجیریا کے شہر کانو کی بڑی مساجد میں شمار ہونے والی ایک مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران فائرنگ اور دھماکے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ایک ریسکیو اہلکار کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کئی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

کانو کی اس مسجد میں با اثر شخصیت کانو کے امیر نماز پڑھنے آتے ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

امیر نے حال ہی میں کانو کے لوگوں سے اسلامی شدت پسند تنظیم بوکو حرام کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا کہا تھا۔

کانو کے امیر نے نومبر کے آغاز پر لوگوں سے کہا تھا کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے جو بھی لے سکیں لے لیں۔

پولیس کے ترجمان نے کہا تھا کہ امیر کے یہ بیان افراتفری پھیلانے کا اعلان ہے اور اس پر عملدرآمد نہیں کرنا چاہیے۔

کانو کے امیر جو اس سال کے شروع تک نائیجیریا کے سینٹرل بینک کے گورنر تھے عام طور پر سیاسی معاملات میں خاموش رہتے ہیں۔

ایک ریسکیو اہلکار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 64 ہے اور 126 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جمعہ کی نماز کے دوران تین دھماکے ہوئے اور اس کے بعد حملہ آوروں نے نمازیوں پر فائرنگ کی۔

ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا ’نماز شروع ہی ہونے والی تھی کہ میں نے دیکھا ایک شخص اپنی گاڑی زبردستی مسجد کے احاطے میں لانے کی کوشش کر رہا تپا۔ جب لوگوں نے اس کو روکا تو اس نے گاڑی دھماکے سے اڑا دی۔ اس کے بعد لوگ ادھر ادھر بھاگنا شروع ہو گئے۔‘

کانو کے امیر محمد سنوسی دوئم آج کل سعودی عرب میں ہیں۔ امیر کے محل کے ذرائع نے بتایا کہ امیر پیرس سے سعودی عرب جمعرات کو رات گئے پہنچے تھے۔

بوکو حرام نے کانو شہر پر کئی بار حملے کیے ہیں۔

اسی بارے میں