کوبانی میں شدید لڑائی، چار خودکش حملے، 25 افراد ہلاک

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ترکی کی سرحد کے ساتھ شامی قصبے کوبانی میں پھر سے شدید لڑائی شروع ہو گئی ہے جہاں پر کرد سکیورٹی فورسز سے ستمبر سے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے کم از کم چار خودکش حملے کیے جس میں اطلاعات کے مطابق کم سے کم 25 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پہلا حملہ سنیچر کی صبح ترکی کی سرحد پر آر پار جانے کے راستے کے قریب ہوا۔ یہ علاقے میں تازہ لڑائی کے چھڑ جانے کا پہلا واقعہ ہے۔ کرد ذرائع کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار ترکی جانب سے آیا لیکن ترک حکام اس کی تردید کرتے ہیں۔

خودکش حملے کے بعد وہاں اور قصبے کے جنوب مغربی علاقے میں کرد سکیورٹی فورسز اور دولتِ اسلامیہ کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

برطانیہ میں قائم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ تین مزید خودکش حملے کیے گئے، ایک خودکش بمبار نے اپنے آپ کو اْڑایا جبکہ دو خودکش حملے گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اطلاعات کے مطابق لڑائی میں جیسے ہی تیزے آئی دولتِ اسلامیہ جنگجوؤں کی مدد کے لیے ٹینک بھی لائے آئے گئے

اطلاعات کے مطابق لڑائی میں جیسے ہی تیزے آئی دولتِ اسلامیہ جنگجوؤں کی مدد کے لیے ٹینک بھی لائے آئے گئے۔ دریں اثنا امریکہ نے کوبانی کے مشرقی علاقے میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر دو فضائی حملے کیے۔

دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ دو مہینوں سے جاری لڑائی کے دوران کوبانی کے بعض حصوں اور اس کے ارد گرد درجنوں دیہات پر کنٹرول حاصل کیا ہے لیکن اسے مقامی کرد فورسز کی جانب سے شدید مقابلے کا سامنا ہے۔ ان کرد فورسز کو معمولی تعداد میں شامی عربوں اور عراقی کردوں کی مدد بھی حاصل ہے جبکہ امریکہ بھی فضائی حملوں کے ذریعے ان کی مدد کر رہا ہے۔

کوبانی میں لڑائی کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک اور تقریباً دو لاکھ سے زائد افراد ترکی میں پناہ گزین ہونے پر مجبور ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ نے کوبانی کے مشرقی علاقے میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر دو فضائی حملے کیے

امریکی کی سربراہی میں اتحادی فورسز کی فضائیہ کرد فورسز کی مدد کرتی ہے جو کوبانی میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

ترکی نے عراق سے تعلق رکھنے والے بعض کرد جنگجوؤں کو ترک علاقے سے گزر کر کوبانی میں کرد سکیورٹی فورسز کی مدد کرنے کے لیے جانے کی اجازت دی ہے۔

خیال رہے کہ شام و عراق کے وسیع علاقے پر دولت اسلامیہ کا کنٹرول ہے۔

اسی بارے میں