فرگوسن شوٹنگ: پولیس اہلکار مستعفی ہو گئے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مجھے بتایا گیا ہے کہ میری ملازمت سے فرگوسن شہر کے پولیس اہلکاروں اور شہریوں کو خطرہ لاحق ہو جائے گا، اور میں اس صورتِ حال کی اجازت نہیں دے سکتا: ڈیرن ولسن

امریکی پولیس اہلکار ڈیرن ولسن کے وکیل نے کہا ہے کہ وہ مستعفی ہو گئے ہیں۔ انھوں نے ریاست مزوری کے قصبے فرگوسن میں ایک غیرمسلح سیاہ فام نوجوان مائیکل براؤن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

ایک اخبار کے مطابق ولسن نے کہا ہے کہ وہ اگر وہ اپنے عہدے پر برقرار رہتے تو تشدد میں اضافے کا خدشہ تھا۔

تاہم بعد میں فرگوسن قصبے کی ایک ترجمان نے اصرار کیا کہ ولسن مستعفی نہیں ہوئے۔

گورنر نے دوسری جیوری کا مطالبہ مسترد کر دیا

عدالتی فیصلے کے بعد ملک گیر احتجاج

ایک جیوری کی جانب سے اس فیصلے کے بعد کہ ولسن پر فردِ جرم عائد نہیں کی جائے گی، فرگوسن اور کئی دوسرے امریکی شہروں میں بلوے ہوئے تھے۔

اس سے ملک بھر میں امریکہ کی سیاہ فام آبادی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعلقات پر بحث چھڑ گئی تھی۔

ولسن کے وکیل نے ہفتے کو اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے امریکی میڈیا کو بتایا کہ استعفیٰ فوری طور پر نافذ العمل ہو گا۔

سینٹ لوئیس پوسٹ نامی اخبار نے لکھا ہے کہ 28 سالہ پولیس اہلکار ڈیرن ولسن نے اس وقت مستفی ہونے کا فیصلہ کیا جب محکمۂ پولیس کو دھمکیاں ملیں کہ اگر وہ اپنے عہدے پر بحال رہے تو تشدد پھوٹ سکتا ہے۔

اخبار نے ان کے استعفے کا خط بھی شائع کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ’مجھے بتایا گیا ہے کہ میری ملازمت سے فرگوسن شہر کے پولیس اہلکاروں اور شہریوں کو خطرہ لاحق ہو جائے گا، اور میں اس صورتِ حال کی اجازت نہیں دے سکتا۔

’میں اپنے استعفے کے فیصلے سے قبل گرینڈ جیوری کے فیصلے کا انتظار کر رہا تھا۔ مجھے امید تھی کہ میں اپنے عہدے پر فائز رہوں گا، لیکن دوسرے پولیس اہلکاروں اور عام لوگوں کا تحفظ میرے لیے انتہائی اہم ہیں۔ مجھے امید ہے کہ میرے استعفے سے معاشرے کے زخموں کو مندل ہونے کا موقع ملے گا۔‘

اس سے قبل ولسن نے امریکی میڈیا کو بتایا تھا کہ فائرنگ سے پہلے براؤن نے انھیں دھکا دیا تھا اور ان کے پستول کی طرف ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی تھی، اور کہا تھا کہ انھیں محسوس ہو رہا تھا جیسے ’ایک پانچ سالہ بچہ (امریکی پہلوان) ہلک ہوگن کے سامنے کھڑا ہے۔‘

ولسن نے کہا کہ انھیں جان کا خطرہ تھا۔

دوسری طرف مائیکل براؤن کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جب انھیں گولی ماری گئی اس وقت وہ اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کرنے والے تھے۔ کچھ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گولی چلتے وقت ولسن نے ہاتھ بلند کیے ہوئے تھے۔

تاہم ریاستی استغاثہ نے کہا کہ گواہوں کے بیانات اور شواہد میں تضاد تھا۔

اسی بارے میں