اوباما کی بیٹیوں پر تنقید کے بعد معافی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تھینکس گیونگ کی تقریب کے دوران 16 سالہ مالیہ اور 13 سالہ ساشا کی بےدلی پر بہت سے تبصرہ نگاروں نے مزاحیہ تبصرے کیے

امریکی صدر بارک اوباما کی بیٹیاں ساشا اور مالیا پر رپبلکن پارٹی کی ایک اہلکار نے تھینکس گیونگ تقریب میں توہین اور شائستگی میں کمی کا الزام لگایا ہے۔

سینیٹر سٹیون فنچر کی کمیونیکیشن ڈائریکٹر الزبتھ لوٹین نے اپنے فیس بک پیج پر اس بارے میں تبصرہ کیا تھا تاہم اب وہ فیس بک سے ہٹا لیا گیا ہے۔

سخت تنقید کے بعد لوٹین نے اپنے تکلیف پہنچانے والے الفاظ کے لیے معافی مانگی ہے۔

انھوں نے تقریب میں اوباما کی بیٹیوں کے لباس پر نکتہ چینی کی تھی۔ صدر اوباما کی بیٹیوں نے اس موقعے پر شارٹ سکرٹ پہنی تھی۔

انھوں نے اس بات پر بھی تنقید کی تھی کہ جب وائٹ ہاؤس میں روایتی ٹرکی کی معافی مانگنے کی تقریب میں جب صدر اوباما نے قومی ڈنر ٹیبل پر دو پرندوں کو چھوڑا تھا تو دونوں لڑکیاں اپنے والد کے ساتھ کھڑی تھیں اور انھیں ان چیزوں میں کوئی دلچسپی نظر نہیں آ رہی تھی۔

ہرچند کہ 16 سالہ مالیہ اور 13 سالہ ساشا کے غیر دلچسپی کے مظاہرے پر بہت سے مبصروں نے مزاحیہ انداز میں تبصرہ کیا لیکن لوٹین کی تنقید زیادہ سخت تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس پوسٹ میں یہ بھی مشورہ تھا کہ ’موقعے کے حساب سے اپنے آپ کو اونچا اٹھاؤ اور ایسا ظاہر کرو کہ وائٹ ہاؤس میں رہنا تمہارے لیے اہمیت کا حامل ہے‘

ان کی ڈیلیٹ کی جانے والے پوسٹ میں لکھا تھا: ’پیاری ساشا اور مالیا: مجھے معلوم ہے کہ تم اپنے عنفوان شباب کی عمر میں ہو لیکن تمھارا تعلق امریکہ کی فرسٹ فیملی سے ہے، ذرا اپنا مرتبے کا خیال رکھنے کی کوشش کیا کرو۔ کم از کم ان چیزوں کا احترام کرو جو تمھیں کرنا ہے۔

’لیکن خیر، تمھارے والد اور ماں بھی اپنے عہدے کا یا اس قوم کا کوئی خاص لحاظ نہیں رکھتے، اس لیے میرا اندازہ ہے کہ تم ایک اچھا ’رول ماڈل‘ بننے کے شعبے میں ذرا پیچھے رہ گئی ہو۔‘

اس پوسٹ میں یہ بھی مشورہ تھا کہ ’موقعے کے حساب سے اپنے آپ کو اوپر اٹھاؤ اور ایسا ظاہر کرو کہ وائٹ ہاؤس میں رہنا تمہارے لیے اہمیت کا حامل ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’اس طرح کا لباس پہنو جس سے تمھیں عزت ملے، نہ کہ ایسا کہ جو شراب خانوں میں پہنا جاتا ہے۔‘

اپنے معافی نامے میں انھوں نے لکھا: ’بہت دیر تک عبادت کرنے اور اپنے والدین سے گفتگو کرنے کے بعد جب میں نے دوبارہ اپنی تحریر پڑھی تو مجھے یہ صاف نظر آیا کہ کہ میرے الفاظ کس قدر تکلیف دہ تھے۔

’میں ان تمام لوگوں سے معافی مانگتی ہوں جنھیں میں نے تکلیف پہنچائی ہے اور جنھیں میرے الفاظ سے دکھ ہوا ہے اور میں عہد کرتی ہوں کہ میں اس تجربے سے سبق سیکھوں گی۔‘

اسی بارے میں