’ایبولا کی روک تھام کے لیے مقرر کردہ اہداف پورے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’ہم 60 دن پہلے تک بالکل مختلف سطح پر تھے‘

عالمی ادارۂ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اس نے مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس کی روک تھام کے لیے طے کیے گئے ہدف کو بڑی حد تک پورا کر لیا گیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او نے ایبولا وائرس پر قابو پانے کے لیے خود ہی 60 روز کا ہدف مقرر کیا تھا۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ہدف کے تحت یکم دسمبر تک لائبیریا اور سیئرالیون میں 70 فی مریضوں کا علاج اور انھیں الگ کرنا اور ہلاک شدگان کی 70 فیصد کی محفوظ تدفین شامل تھی۔

ایبولا کا قاتل وائرس: بی بی سی کا خصوصی ضمیمہ

ڈبلیو ایچ او کے اہلکار ڈاکٹر بروس ایلورڈ نے کہا ہے کہ صرف سیئرالیون میں طے کردہ ہدف سے زیادہ کامیابی ملی ہے تاہم مریضوں کی تعداد کو ’صفر‘ یا اس کے مکمل خاتمے کے لیے اب بھی بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر بروس ایلورڈ کے مطابق لائبیریا سے اختتام ہفتہ پر جن ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئیں تھیں وہ ایبولا وائرس کی وجہ سے نہیں تھیں اور اب ان کو ایبولا کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔

اتوار کو ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعداد شمار کے مطابق ایبولا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 6928 تک پہنچ گئی تھی تاہم اب میں اس کو کم کر کے 5987 کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تازہ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ ابھی بھی 200 سے 300 افراد ہر ہفتے ہلاک ہو رہے ہیں

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ایبولا وائرس کے خلاف مشن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر بروس ایلورڈ کے مطابق بیماری کی سطح اور اس سے نمٹنے کی صلاحیت کا بڑا خلیج اب قابل ذکر حک تک کم ہو گیا ہے۔

’ہم 60 دن پہلے تک بالکل مختلف سطح پر تھے۔‘

ڈاکٹر ایلورڈ کے مطابق انھیں یقین ہے کہ لائبیریا، گنی اور سیئرالیون میں 70 فیصد مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے جبکہ سیئرالیون نےتقریباً سارے ملک میں یہ ہدف پورا کر لیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا:’ ان تین ملکوں میں گذشتہ 60 روز میں ہلاک ہونے والے 70 فیصد افراد کی محفوظ تدفین کر دی گئی ہے جبکہ تدفین کرنے والی ٹیموں کی تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔‘

ہدف کو سو فیصد تک پورا کرنے کے بارے میں ڈاکٹر بروس ایلورڈ نے کہا کہ ان کے پاس اس کا واضح جواب نہیں ہے لیکن ہم اس ہدف کی جانب بڑھ رہے ہیں اور حالیہ کامیابیاں’ ایبولا کو روکنے کے لیے ناکافی ہیں۔‘

’مریضوں کی نشاندھی کرنا اور انھیں الگ کرنے سے اس پر قابو نہیں پایا جا سکتا اور اس کے لیے اضافی اقدامات کرنا ہوں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مریضوں کی نشاندھی کرنا اور انھیں الگ کرنے سے اس پر قابو نہیں پایا جا سکتا اور اس کے لیے اضافی اقدامات کرنا ہوں گے: ڈاکٹر بروس

اس سے پہلے اتوار کو اقوامِ متحدہ کے ایبولا مشن کے سربراہ بین بری نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس مہلک وائرس کا دنیا کے دوسرے حصوں تک پھیلنے کا خطرہ ابھی تک برقرار ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کا حتمی ہدف ایبولا سے ہونے والی اموات کو صفر تک لانا ہے اور ان اہداف کو گنی، سیئرا لیون اور لائبیریا میں حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے اور تازہ اعدادو شمار کے مطابق ایبولا سے ہر ہفتے ابھی بھی 200 سے 300 افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔

بین بری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے اقدامات کے باوجود دنیا میں ابھی بھی ایبولا کے پھیلنے کا ’زبردست خطرہ ہے۔ یہ اس علاقے سے ملحق علاقوں میں پھیل سکتا ہے یاپھر کسی جہاز پر سوار ہوکر یہ ایشیا، لاطینی امریکہ، شمالی امریکہ اور یورپ جا سکتا ہے اس لیے اسے جس قدر جلد ممکن ہو صفر پر لانا ضروری ہے۔‘

ایبولا وائرس ایبولا کے مریض کے جسم سے خارج ہونے والی محلول کے کسی دوسرے کو لگ جانے سے پھیلتا ہے۔ اس وجہ سے جو افراد ایبولا کے مریضوں کی تیمار داری کرتے ہیں انھیں ابیولا کا شکار ہونے کا زیادہ خطرہ رہتا ہے۔

اسی بارے میں