’ایران کی دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیاں مثبت ہوں گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی وزیر خارجہ نے ایران کی عراق میں فضائی کارروائیوں کی تصدیق سے گریز کیا

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ایران کی عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف عسکری کارروائیاں مثبت ہوں گی تاہم انھوں نے دوہرایا کہ امریکہ ایران کے ساتھ مل کر کام نہیں کر رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کے مطابق اتحادی ممالک کے گذشتہ کئی ماہ سے جاری فضائی حملوں نے دولتِ اسلامیہ کی صلاحیتوں کو خاصی حد تک تباہ تو کر دیا ہے، تاہم اس پر قابو پانے میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے ان خیالات کا اظہار بلیجیئم کے دارالحکومت برسلز میں اتحادی ممالک کے اجلاس کے دوران کیا۔

دولتِ اسلامیہ کیا ہے؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

ایران دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی قیادت میں قائم اتحاد کا حصہ نہیں ہے، تاہم کہا جا رہا ہے کہ اس ہفتے ایرانی فضائیہ نے بھی عراق میں دولتِ اسلامیہ پر حملے کیے ہیں۔ تاہم ان اطلاعات کے بعد خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایرانی اہلکار نے اس خبر کی تردید کر دی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے ایران کی دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں کو مثبت تو قرار دیا لیکن انھوں نے امریکی دفاع کی جانب سے ایران کی عراق میں فضائی کارروائیوں کی اطلاعات کی تصدیق کرنے سے گریز کیا۔

دوسری جانب امریکہ وزارتِ دفاع نے بھی کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف حملوں کے حوالے سے اتحادی ممالک اور ایران کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہے۔

اتحادی ممالک کے اعلیٰ نمائندوں کے اجلاس میں جان کیری نے کہا کہ ’ہم متحد ہیں اور ہر محاذ پر آگے بڑھ رہے ہیں اور ہم (دولتِ اسلامیہ کے خلاف) مہم اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک ہمیں اس میں برتری نہیں حاصل ہو جاتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پینٹاگون کے ترجمان ریئر ایڈمرل جان کربی نے کہا ہے کہ ایران کے جنگی جہاز گذشتہ کئی روز سے عراق کے مشرقی علاقے میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں

انھوں نے کہا اتحادیوں کی کارروائیوں کے طفیل دولتِ اسلامیہ کے لیے ’اپنے جنگجوؤں اور طاقت کو مجتمع کر کے قافلوں کی شکل میں ایک مقام سے دوسرے مقام پر جانااور منظم حملے کرنا‘ بہت مشکل ہو گیا ہے۔

جان کیری نے مزید کہا کہ دولتِ اسلامیہ ’اتحاد میں شامل تمام ممالک کے مفادات اور ان کی اقدار کے لیے خطرہ ہے۔‘

’حقیقت یہ ہے کہ ان دہشت گردوں کے خلاف برسرپیکار اتحادی ممالک میں پایا جانے والا تنوع ہماری بڑی طاقت ہے کیونکہ اس سے ہماری مہم کو نہ صرف زیادہ قابلِ اعتبار سمجھا جاتا ہے، بلکہ اسی تنوع کی بدولت ہمیں عراق اور شام میں داعش کی کارروائیاں روکنے میں مدد مل رہی ہے اور اگر دنیا میں کہیں بھی اس گروہ کی حمایت پائی جاتی ہے تو ہم اس کا تدارک بھی کر پا رہے ہیں۔‘

برسلز میں اتحادی ممالک کے اجلاس میں عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کے علاوہ کئی یورپی، عرب اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ بھی شرکت کر رہے ہیں۔

اجلاس کے شرکا جن معاملات پر بحث کریں گے ان میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فوجی کارروائی کی حکمت عملی کے علاوہ عراق اور شام میں دیگر ممالک سے آنے والے جنگجوؤں کو روکنا بھی شامل ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں امریکہ اور ترکی کے درمیان اہم اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ترکی کا مطالبہ ہے کہ فضائی حملوں کے لیے اس کے ہوائی اڈے استعمال کرنے سے پہلے شام کے ساتھ اس کی سرحد کے ساتھ ساتھ ایک محفوظ علاقہ یا پٹی بنائی جائے۔

دریں اثنا پینٹاگون کے ترجمان ریئر ایڈمرل جان کربی نے کہا ہے کہ ایران کے جنگی جہاز گذشتہ کئی روز سے عراق کے مشرقی علاقے میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption فاعی جریدے کا کہنا ہے کہ یہ لڑاکا طیارہ ایرانی فینٹم ہے (تصویر بشکریہ الجزیرہ)

جان کربی کے مطابق ان کے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں جن کی بنیاد پر وہ گذشتہ کئی دنوں سے جاری ایرانی کارروائیوں کی تردید کر سکیں اور جنگی سرگرمیوں کے بارے میں ایرانی حکومت ہی سے پوچھنا چاہیے۔

ریئر ایڈمرل جان کربی کےمطابق امریکہ عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا اور امریکہ اس آپریشن میں ایران سے رابطے میں نہیں ہے اور نہ ہی ہو گا۔

کہا جا رہا ہے کہ ایرانی فضائیہ کے فینٹم طیاروں نے عراق کے صوبے دیالا میں ان مقامات پر بمباری کی ہے جہاں عراقی فوجیں عسکریت پسندوں کے خلاف لڑ رہی ہیں۔

ٹی وی چینل ’الجزیرہ‘نے ایک ویڈیو دکھائی ہے جس کے بارے میں ایک دفاعی جریدے کا کہنا ہے کہ اس میں دکھائی دینے والا لڑاکا طیارہ ایرانی فینٹم ہے۔

روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک ایرانی افسر کا کہنا تھا کہ ’ایران نے داعش کے خلاف عراق میں فضائی حملوں میں کبھی کوئی حصہ نہیں لیا ہے، اور اس معاملے میں امریکہ کے ساتھ تعاون یا رابطے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔‘

اسی بارے میں