کینیا: الشباب کے حملے کے بعد وزیر داخلہ برطرف

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کینیا کے صدر کنیاٹا نے شدت پسندوں کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم کیا ہے

افریقی ملک کینیا کے صدر اورو کنیاٹا نے شدت پسند تنظیم الشباب کے حملے میں 36 مزدوروں کی ہلاکت کے بعد وزیر داخلہ اور پولیس کے سربراہ کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

صدر اورو کنیاٹا نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ متحد رہیں اور’ ہم دہشت گردوں کے خلاف جنگ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘

صدر نے وزیر داخلہ کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا جبکہ پولیس کے سربراہ کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

منگل کو کینیا کے شہر منڈیرا میں صومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب نے کم از کم 36 کھدائی کرنے والے مزدوروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

صدر اورو کنیاٹا نے منگل کو سرکاری ٹی وی پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’یہ ایک ایسی جنگ ہے جسے ہر ایک کو لڑنا ہو گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کینیا کی عیسائی برادری میں ان حملوں کے خلاف زبردست غم و غصہ پایا جاتا ہے

انھوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ اب ہمارے میں سے ہر ایک کو یہ طے کرنا ہو گا کہ آپ ایک آزاد اور جمہوری کینیا کے ساتھ ہیں یا آپ تنگ نظر اور ظالم شدت پسندوں کے ساتھ ہیں۔

صدر اورو کنیاٹا نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ جوزف اولے لینکو کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے اور ان کی جگہ پر حزب مخالف کے رہنما اور سابق فوجی جنرل جوزف نکایسرے کو نئی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ پولیس کے سربراہ ڈیوڈ کمایوے نے مستعفی ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جسے انھوں نے منظور کر لیا۔

نامہ نگاروں کے مطابق عہدوں سے ہٹائے جانے والے دونوں اہلکاروں پر ملک میں شدت پسندی کے حالیہ واقعات کے بعد سکیورٹی خدشات کی وجہ سے شدید دباؤ تھا اور عام شہری دونوں کے جانے پر خوش ہوں گے کیونکہ ان کے خیال میں یہ شدت پسندی پر قابو پانے میں ناکام رہے تھے۔

اس کے علاوہ صدر اورو کنیاٹا نے فوج کے سابق جنرل کو وزیر داخلہ مقرر کر کے بظاہر صومالیہ کی شدت پسند تنظیم الشباب کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔

منگل کو منڈیر شہر میں پیش آنے والے واقعے کے بارے میں مقامی باشندوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے پہلے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو علیحدہ کیا اور پھر عیسائیوں کو گولی مار دی۔ کھدائی کرنے والے مزدوروں پر حملہ منگل کی صبح کیا گيا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ان افراد کو آدھی رات کو اس وقت پکڑ لیا گیا جب وہ اپنے خیموں اور کانوں میں سو رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption گذشتہ ہفتے بس پر کیے جانے حملے میں 28 افراد مارے گئے تھے

اس سے قبل منڈیرا کے پڑوسی ضلعے میں غیر مسلموں میں مقبول ایک شراب خانے میں ایک شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

گذشتہ ہفتے پڑوسی ملک صومالیہ کی اسلام پسند جنگجو تنظیم الشباب نے کینیا کے اسی علاقے میں ایک بس پر حملہ کر کے 28 غیر مسلموں کو قتل کر دیا تھا۔

ایک مقامی پولیس چیف نے کہا کہ قاتلوں نے منڈیرا شہر سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر کورمی کی کان کے پاس غیرمسلم مزدوروں کو نشانہ بنایا۔

کینیا میں سرگرم عالمی تنظیم ریڈ کراس نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ان کی ٹیم کا ایک رکن اور سکیورٹی اہلکار جائے حادثہ پر موجود ہیں۔

واضح رہے کہ الشباب نے سنہ 2011 کے بعد سے کینیا پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے کیونکہ کینیا نے جنگجوؤں کے خلاف صومالیہ کی امداد کے لیے فوج بھیجی تھی۔

اسی بارے میں