’دہشت گردی پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ دشمن‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیراعظم شریف نے افغان صدر کے دورہ پاکستان کے دوران تعلقات کے نئے دور کا بھی تذکرہ کیا

وزیراعظم نواز شریف نے لندن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان ایک پرامن، مستحکم، متحد اور خوشحال افغانستان کے مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے مصروف عمل ہیں۔

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں افغانستان سے بین الاقوامی فوجوں کے انخلا کے بعد کی صورتحال پر منعقدہ افغانستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ وہ افغان صدر اشرف غنی کی اصلاحات کے پروگرام کی حمایت کریں گے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف’مشترکہ دشمن‘ کے طور لڑیں گے۔

’میں نے صدر غنی سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان جامع اور مستقل شراکت کے بارے میں اپنی مستقبل کی سوچ کا تبادلۂ خیال کیا ہے، جس میں دہشت گردی سے’مشترکہ دشمن‘کے طور پر لڑا جائے گا۔

وزیراعظم نواز شریف نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ افغانستان نے گذشتہ 13 سال کے دوران اہم سنگ میل عبور کیے ہیں۔

انھوں نے افغان صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ کے درمیان شراکت اقتدار کے معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم افغان حکومت کی مستقبل کے لائحہ عمل اور ملک میں جمہوریت کی مضبوطی، اچھی طرز حکومت، قانون کی عمل داری سمیت اصلاحات کے پروگرام کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ریڈیو کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے خطاب میں مزید کہا کہ ’پاکستان اور افغانستان ایک پرامن، مستحکم، متحد اور خوشحال افغانستان کے مشترکہ مقصد کے حصول کے لیے مصروف عمل ہیں۔‘

وزیراعظم نواز شریف نے افغان حکومت کی جانب سے (طالبان) بات چیت کرنے کے اعلان اور اختلافات کو سیاسی انداز سے حل کے ارادے کو خوش آئند قرار دیا۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر قائم رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

انھوں کہا ہے کہ افغانستان کی تاریخ میں پہلی بار باضابطہ انداز میں اقتدار منتقل ہوا ہے اور یہاں قائم قومی حکومت افغان عوام کی ترجمان ہے۔

افغان صدر نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ’ماضی خود کو نہیں دھرائے گا ، ہم نے ماضی کو شکست دے دی ہے ہم مستقبل کا اعتماد اور مکمل یکجہتی کے ساتھ سامنا کریں گے۔‘

انھوں نے افغان سکیورٹی فورسز کی استعداد بڑھانے پر دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ اب ملکی افواج اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔

افعان صدر نےمعاشی امداد پر بھی دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ تربیت، مشورے اور مدد کا سلسلہ جاری رہے گا ۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وزیراعظم نواز شریف نے کانفرنس کے موقعے پر امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے بھی ملاقات کی

ان کا کہنا تھا کہ ’امن ‘قومی ترجیح ہے۔ انھوں نے تمام اتحادی ممالک اور ہمسایہ ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔

افغان صدر نے باہمی تعاون کے عزم پر پاکستان کے وزیراعظم کا شکریہ بھی ادا کیا۔

افغانستان کانفرنس میں 60 ممالک نے شرکت کی اور اس میں امریکہ، برطانیہ سمیت تمام اتحادی ممالک نے عہد کیا کہ وہ افغانستان کی نئی حکومت کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

افغانستان سے رواں سال امریکہ اور نیٹو کی فوج نکل جائے گی تاہم امریکی فوجیوں کی ایک محدود تعداد افغان فوج کی تربیت کے لیے موجود رہے گی جبکہ سکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان سکیورٹی فورسز کے ذمے ہوں گی۔

دوسری جانب حال ہی میں افغانستان میں طالبان کی جانب سے کیے جانے والے حملوں میں تیزی آئی ہے۔ عالمی برادری کو سکیورٹی صورتِ حال ہر قابو پانے کے لیے افغان سکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں پر تشویش ہے۔

اسی بارے میں