دولتِ اسلامیہ نے لیبیا میں تربیتی کیمپ قائم کیے ہیں: امریکہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لیبیا کے مشرقی علاقوں میں کئی شدت پسند تنظمیں اقتدار حاصل کرنے کی دوڑ میں ہیں اور ان میں سے بعض نے حال ہی میں دولتِ اسلامیہ کے ساتھ وفاداری کا اعلان کیا ہے

افریقہ کے لیے امریکی فوجی کمانڈ کے سربراہ نے کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے مشرقی لیبیا میں تربیتی کیمپ قائم کیے ہیں۔

جنرل ڈیوڈ روڈریگز نے کہا کہ ان کیمپوں میں ممکنہ طور پر دولتِ اسلامیہ کے ’چند سو‘ جنگجو تربیت لے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ تربیتی کیمپ ابتدائی سٹیج میں ہیں، لیکن امریکہ نے ’ان پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔‘

لیبیا میں سنہ 2011 میں معمر قذافی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے خانہ جنگی کی صورتِ حال ہے اور وہاں مختلف قبائل، ملیشیا اور سیاسی دھڑے اقتدار کے لیے لڑ رہے ہیں۔

ملک کے مشرقی علاقوں میں کئی شدت پسند تنظمیں اقتدار حاصل کرنے کی دوڑ میں ہیں اور ان میں سے بعض نے حال ہی میں دولتِ اسلامیہ کے ساتھ وفاداری کا اعلان کیا ہے۔

واشنگٹن میں بدھ کو بات کرتے ہوئے جنرل ڈیوڈ روڈریگز نے کہا کہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ ان کیمپوں میں زیرِ تربیت جنگجوؤں کے دولت اسلامیہ کے ساتھ کتنے قریبی تعلقات ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اب ان کیمپوں میں لوگ صرف تربیت لینے یا لاجسٹک امداد دینے کے لیے آتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ کیمپ ابتدائی سٹیج میں ہیں اور ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قذافی کی حکومت ختم ہونے کے بعد بہت سے جنگجو شام میں اسلامی شدت پسند جنگجوؤں کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے شام گئے تھے جن میں سے بعض کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ واپس آ گئے ہیں۔

لیبیا کی منتخب حکومت ملک میں سیاسی بحران کی وجہ سے تین شہروں کا کنٹرول کھو چکی ہے۔

ملک کا دوسر بڑا شہر بن غازی اسلامی شدت پسندوں کے قبضے میں ہے اور بین الاقوامی طور پر تسلیم کی جانے والی پارلیمنٹ اب تروک میں قائم ہے۔

خیال رہے کہ امریکی سربراہی میں اتحادی ممالک کی فضائیہ شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیاں کرتی رہی ہے۔

اسی بارے میں