امریکہ: ایک اور سیاہ فام شہری کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ مظاہرے بدھ کو اس وقت شروع ہوئے جب گرینڈ جیوری نے نیویارک میں سیاہ فام شہری ایرک گارنر کی موت کے کیس میں پولیس اہلکار پر مقدمہ نہ چلانے کا فیصلہ سنایا

امریکی ریاست نیویارک میں ایک اور سیاہ فام شہری ایرک گارنر کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف دوسرے روز بھی مظاہرے ہوئے۔

نیویارک اور دیگر شہروں میں ہزاروں مظاہرین نے سٹرکوں پر دھرنے دیے جس کے نتیجے میں ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔

یہ مظاہرے بدھ کو اس وقت شروع ہوئے جب گرینڈ جیوری نے نیویارک میں سیاہ فام شہری ایرک گارنر کی موت کے کیس میں پولیس اہلکار پر مقدمہ نہ چلانے کا فیصلہ سنایا۔

شہری حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے اب اس کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔

ادھر نیویارک کے گورنر بل ڈی بلازیو نے کہا ہے کہ پولیس کے 22,000 اہلکاروں کو شہر کو پرسکون رکھنے اورگرفتاریاں کرنے کے لیے تربیت دی جائے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان پولیس اہلکاروں کے جسموں کے ساتھ کیمرے بھی نصب کیے جائیں گے۔

دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما نے نیویارک کے گورنر کے کام کرنے کے عزم کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ متعدد امریکی اس وقت ناانصافی محسوس کرتے ہیں جب ہمارے پروفیشنل تصورات اور روزمرہ قانون کے نفاذ کے درمیان فرق آتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایک ہفتہ قبل امریکی ریاست مزوری میں جیوری کی جانب سے ایک 18 سالہ سیاہ فام نوجوان مائیکل براؤن کی ہلاکت پر پولیس اہلکار پر مقدمہ نہ چلانے کے فیصلے کے بعد مظاہروں کا سلسلہ ملک بھر میں پھیل گیا تھا

خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل ریاست مزوری میں جیوری کی جانب سے ایک 18 سالہ سیاہ فام نوجوان مائیکل براؤن کی ہلاکت پر پولیس اہلکار پر مقدمہ نہ چلانے کے فیصلے کے بعد مظاہروں کا سلسلہ ملک بھر میں پھیل گیا تھا۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے مائیکل براؤن اور ایرک گارنر کے کیسوں کی سماعت نہ کرنے پر ’مناسب تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔

نیویارک میں جمعرات کی رات مظاہرین بروکلن پل پر تابوت لے کر آئے اور انھوں نے گروپوں کی صورت میں مین ہٹن بھر میں مارچ کیا۔

مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر ’نسل پرستی مار دیتی ہے‘ اور ’اسے آج بند ہو جانا چاہیے‘ کے نعرے درج تھے۔

مظاہرے میں شامل ایک شخص جیسن پولاک کا کہنا تھا: ’لوگ اس ملک میں نسل پرستی کے نظام کی خرابیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’ہم سڑکوں پر یہ کہنے کے لیے باہر نکل آئے ہیں کہ آیا سیاہ فاموں کی زندگیوں کی کوئی وقعت ہے بھی یا نہیں۔‘

اس موقعے پر پولیس نے دھرنوں کے شرکا سے کہا کہ اگر انھوں نے دھرنے ختم نہ کیے تو انھیں گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس سے قبل پولیس نے بدھ کو 80 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا تھا۔

امریکہ کے شہروں شگاگو، واشنگٹن، ڈینور اور بوسٹن میں بھی اس واقعے کے خلاف چھوٹے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے واشنگٹن میں 13 دسمبر کو احتجاج کی کال دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سیاہ فام ایرک گارنر کو بغیر ٹیکس کے سگریٹ فروخت کرنے کے الزام میں حراست میں لیے جانے کی ویڈیو کے خلاف عوام سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا

پولیس نے 43 سالہ ایرک گارنر کو 17 جولائی کو بغیر ٹیکس کے سگریٹ فروخت کرنے کے الزام میں روکا تھا۔

سیاہ فام ایرک گارنر کو بغیر ٹیکس کے سگریٹ فروخت کرنے کے الزام میں حراست میں لیے جانے کی ویڈیوکے خلاف عوام سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

اس ویڈیو میں ایرک گارنر کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا تھا کہ ’میں سانس نہیں لے پا رہا‘ جس کے بعد ان کی موت واقع ہو گئی تھی۔

ایرک گارنر کا طبی معائنہ کرنے والے ڈاکٹرز کے مطابق گارنر کی موت ان کا گلا دبانے کے نتیجے میں واقع ہوئی تھی۔

اسی بارے میں