امریکی صحافی بازیابی کے لیے کی گئی کارروائی میں ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption امریکی صحافی لیوک سومرز کو یمن میں سنہ 2013 میں اغوا کیا گیا تھا

امریکہ اور یمن کے حکام کا کہنا ہے کہ یمن میں القاعدہ کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے ایک امریکی صحافی بازیابی کروانے کے لیے کی گئی کارروائی میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایک امریکی اہلکار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ لیوک سومرز کو شدت پسندوں نے اس وقت گولی مار دی جب ان کے ٹھکانے پر امریکی فورسز نے حملہ کیا۔

صحافی کی بہن لوسی سومرز نے خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایف بی آئی نے انہیں ہلاک سے متعلق مطلع کر دیا ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع چک ہیگل نے بھی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے اس کہ اس دوران ایک اور یرغمال شخص جو کہ امریکی نہیں ہے ہلاک ہوا ہے۔

یمن کی وزراتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ یمن کے جنوبی صوبے شبوا میں سنیچر کو ایک بڑی کارروائی کی گئی۔

امریکی صحافی لیوک سومرز کو یمن میں سنہ 2013 میں اغوا کیا گیا تھا اور ان کی ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی تھی جس میں وہ مدد کی اپیل کر رہے تھے۔

33 سالہ لیوک ایک مقامی خبر رساں ادارے کے ساتھ بطور صحافی اور فوٹو گرافر کام کر رہے تھے اور ان کی خبریں بی بی سی نیوز ویب سائٹ سمیت بین الاقوامی اداروں میں بھی شائع ہوتی تھیں۔ انھیں یمن کے دارالحکومت صنا کے ایک بازار سے اغوا کیا گیا تھا اور بعد ازاں انھیں القاعدہ کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا۔

اسی علاقے میں ایک امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے کم سے کم نو مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوئے۔

سومرز کی ایک ویڈیو جاری کی گئی تھی جس میں مطالبات پورا نہ ہونے کی صورت میں انھیں مار دینے کی دھمکی دی گئی تھی۔

پینٹا گون نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ گذشتہ ماہ بھی سومرز کی بازیابی کی ایک کوشش ناکام ہو گئی تھی۔

ان کے خاندان نے بھی القاعدہ سے ایک ویڈیو اپیل میں رحم کرنے اور ان کی رہائی کی اپیل کی تھی۔

اسی بارے میں