بحرین میں مستقل برطانوی فوجی اڈے کے لیے معاہدہ

تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption برطانیہ مشرق وسطی کے علاقے میں فوجی جہازوں کی تعداد بڑھانے کا خواہش مند ہے

برطانیہ سنہ 1971 کے بعد سے پہلی بار مشرق وسطی میں اپنا مستقل فوجی اڈہ قائم کرنے جا رہا ہے۔

بحرین کے ساتھ کیے جانے والے ایک معاہدے کے تحت برطانیہ کی شاہی بحریہ کے لیے خلیج میں ڈیڑھ کروڑ برطانوی پاؤنڈ سے ایک اڈہ بنایا جائے گا۔

برطانیہ کے وزیر دفاع مائیکل فیلن نے کہا کہ ’یہ شاہی بحریہ کے نقش پا میں توسیع ہے‘ اور اس سے خلیج اور برطانیہ میں استحکام کی بحالی ہوگی۔

اطلاعات کے مطابق برطانوی بحریہ کا یہ فوجی اڈہ منا سلمان بندرگاہ پر ہوگا۔

ہمارے نمائندے کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کے جاری خطرات کے پیش نظر بھی خلیجی شاہی حکومتیں اس بات پر راضی ہوئی ہوں کہ برطانوی فوج کو اپنی سرزمین پر فوجی اڈہ قائم کرنے کی دعوت دیں۔

واضح رہے کہ امریکہ پہلے سے ہی اس علاقے میں مستقل فوجی موجودگی رکھتا ہے جبکہ کہ فرانسیسی فوج کا متحدہ عرب امارت میں فوجی اڈہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption فی الحال منا سلمان بندرگاہ پر برطانیہ کے مائن ہنٹر نامی چار جہاز لنگڑ انداز ہیں

فی الحال منا سلمان بندرگاہ پر برطانیہ کے مائن ہنٹر نامی چار جہاز لنگڑ انداز ہیں جبکہ برطانیہ اس علاقے میں فوجی جہازوں کی تعداد بڑھانے کا خواہش مند ہے۔

بحرین کے وزیر خارجہ شیخ خالد احمد بن محمد الخلیفہ نے کہا: ’بحرین آج کے انتظامات پر جلد از جلد درآمد دیکھنے کا خواہشمند ہے اور وہ برطانیہ اور دوسرے اتحادیوں کے ساتھ علاقائی سکیورٹی خطرات کے پیش نظر مل کر کام کرنا چاہتا ہے۔‘

بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار فرینک گارڈنر نے کہا: ’اس معاہدے کے اپنے عیب جو اور ناقد ہوں گے۔ بعض اصلاحات کے بعد بھی بحرین میں انسانی حقوق کی پامالی کے ریکارڈ کے لیے اس کی تنقید ہوتی رہی ہے اور اقتدار حکمراں خاندان میں مرتکز ہے۔

’اس ملک کی شیعہ اکثریت سنی حکمراں کے تعصبات کی شکایت کرتی رہی ہے۔ بہت سے ایسے بھی ہیں جو مستقل طور سے کسی مغربی اڈے کے خلاف ہیں۔ جبکہ برطانیہ قلیل مدت کے لیے کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک میں اپنے جہاز اور طیارے کے علاوہ بری فوج بھی بھیجتا رہا ہے۔‘

اسی بارے میں