القاعدہ کے انتہائی اہم رہنما

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایمن الظواہری القاعدہ تنظیم کے اہم نظریہ ساز ہیں

اسامہ بن لادن سمیت القاعدہ کے رہنماؤں کی موت کے بعد اس تنظیم میں کئی قسم کی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، اس کا جغرافیائی محور بدلا ہے اور اس کی جنگجویانہ سرگرمیوں میں تبدیلی آئی ہے۔

القاعدہ کے انتہائی اہم ناموں کے بارے میں بعض معلومات یہاں پیش کی جا رہی ہیں:

ایمن الظواہری

ایمن الظواہری آنکھوں کے ڈاکٹر ہیں جنھوں نے مصری جنگجو گروہ ’اسلامی جہاد‘ کے قیام میں تعاون کیا اور انھیں 16 جون سنہ 2011 میں اسامہ بن لادن کی موت کے چند ہفتوں بعد القاعدہ کا رہنما نامزد کیا گیا۔

نئی قیادت کے تحت ایک بیان میں القاعدہ نے ’صلیبی جنگجو امریکہ‘ اور اس کے ’نوکر اسرائیل‘ اور ان سے تعاون کرنے والوں کے خلاف جہاد جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکہ کی مطلوب ترین افراد کی فہرست میں اسامہ بن لادن کے بعد ایمن الظواہری کا دوسرا نمبر تھا

ایمن الظواہری پہلے سے ہی تنظیم کے اہم نظریہ ساز تھے، جبکہ بعض ماہرین کے مطابق وہ تنظیم کی جانب سے 11 ستمبر سنہ 2001 میں امریکہ پر ہونے جانے والے حملے کے پس پشت کارفرما ذہن تھے۔

اس حملے کے بعد ایمن الظواہری کے سر پر ڈھائی کروڑ امریکی ڈالر کا انعام رکھا گيا تھا اور امریکہ کی جانب سے جاری کی جانے والی 22 افراد پر مشتمل مطلوب ترین افراد کی فہرست میں اسامہ بن لادن کے بعد ان کا نام دوسرا تھا۔

سنہ 2001 کے اواخر میں ان کی ایک بیوی اور دو بچے امریکی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔ افغانستان میں طالبان کی امریکہ کے ہاتھوں شکست کے بعد الظواہری روپوش ہو گئے تھے۔

الظواہری کو القاعدہ کے ممتاز ترین ترجمانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ سنہ 2003 کے دوران ان کے کئی ویڈیو اور آڈیو ٹیپ منظر عام پر آئے اور ان کا سب سے تازہ پیغام ستمبر سنہ 2014 میں آیا جس میں انھوں نے بھارت میں اسلام پسندوں کے احیا کی بات کہی ہے۔

اس سے قبل جون میں انھوں نے شدت پسند اسلامی گروپ دولت اسلامیہ سے کہا تھا کہ شام کو چھوڑ کر وہ عراق پر توجہ دیں۔ رواں سال فروری میں القاعدہ نے دولت اسلامیہ سے تمام روابط منقطع کر دیے۔

نصر عبدالکریم الوحیشی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption وحیشی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ابھی 36 سال کے ہی ہیں

اسامہ بن لادن کے سابق پرائیویٹ سیکریٹری نصر عبدالکریم الوحیشی سرزمین عرب کے لیے القاعدہ (اے کیو اے پی) کے سربراہ ہیں۔ اس تنظیم کا قیام سعودی عرب اور یمن کی القاعدہ کی شاخوں کے انضمام کے سبب سنہ 2009 میں عمل میں آیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق انھیں حال میں جنرل مینیجر کے طور پر القاعدہ کا نائب سربراہ مقرر کیا گیا ہے اور اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے خطے سے نکل کر القاعدہ اب سرزمین عرب میں مستحکم ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔

وحیشی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ابھی 36 سال کے ہی ہیں اور انھوں نے لیبا کے ابو یحییٰ اللبی کی جگہ لی ہے جو شمال مغربی پاکستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

خالد الحبیب

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption خالد الحبیب کی جنوب مشرقی افغانستان کے کمانڈر کے طور پر شناخت کی گئی تھی

خالد الحبیب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ یاتو مصری ہیں یا پھر ان کا تعلق مراکش سے ہے۔ سنہ 2005 کے نومبر میں آنے والے ایک ویڈیو میں ان کی شناخت جنوب مشرقی افغانستان کے کمانڈر کے طور پر کی گئی تھی۔

اگلے سال پاکستانی حکام نے خبر دی کہ وہ افغانستان سے ملحق پاکستانی سرحد پر ایک امریکی فضائی حملے میں مارے گئے، لیکن پھر بعد میں انھوں نے اس دعوے کو واپس لے لیا۔

خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ سنہ 2006 میں عراق پر قبضے کے بعد انھوں نے مجموعی کمان اپنے ہاتھ میں لے لی۔ انھیں جولائی سنہ 2008 میں القاعدہ کے ملٹری کمانڈر کہا گیا تھا۔

امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان اور شمالی پاکستان میں تنظیم کے اندرونی معاملات کی نگرانی کرتے ہیں۔

سیف العدل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدل سنہ 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد مبینہ طور پر سلیمان ابو غیث اور سعد بن لادن کے ساتھ ایران بھاگ گئے

سیف العدل تقریباً 50 سال کے ہیں اور ان کا تعلق مصر سے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک سابق مصری فوجی محمد ابراہیم مکاوی کا ہی نام سیف العدل ہے۔

ایک زمانے میں عدل اسامہ بن لادن کی سکیورٹی کے سربراہ ہوا کرتے تھے اور انھوں نے سنہ 2001 میں فوجی کمانڈر محمد عاطف کی موت کے بعد ان کی بہت سی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

کہا جاتا ہے کہ وہ اس تنظیم کے رکن ہیں جس نے سنہ 1981 میں انور سادات کا قتل کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ سنہ 1998 میں مشرقی افریقہ میں امریکی سفارت خانے پر حملے میں بھی شامل تھے۔

عدل سنہ 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد مبینہ طور پر سلیمان ابوغیث اور سعد بن لادن کے ساتھ ایران بھاگ گئے۔ مبینہ طور پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انھیں ایرانی گارڈ کور نے نظر بند کر رکھا ہے جبکہ ایران نے کبھی ان کی موجودگی اعتراف نہیں کیا ہے۔

تازہ خبروں کے مطابق یہ کہا جارہا ہے کہ شاید انھیں رہائی مل گئی ہے اور وہ اسامہ کے بیٹے سعد بن لادن کے ساتھ شمالی پاکستان چلے گئے ہیں، جبکہ ایک دوسری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وہ ایران لوٹ گئے ہیں۔

مصطفیٰ حامد

مصطفیٰ حامد سیف العدل کے خسر ہیں اور جلال آباد کے نزدیک واقع القاعدہ کیمپ میں وہ حکمت عملی کی تربیت دیا کرتے تھے۔ ان کے بارے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی حکومت اور القاعدہ کے درمیان رابطہ ہیں۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ طالبان کے سقوط کے بعد انھوں نے القاعدہ کے کئی بڑے رہنماؤں اور ان کے اہل خانہ کو ایران میں محفوظ جگہ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

سنہ 2003 کے وسط میں ایرانی حکام نے حامد کو گرفتار کر لیا تھا لیکن ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انھیں سنہ 2011 میں رہا کر دیا گیا ہے اور اب وہ انقلاب کے بعد مصر میں ہیں۔

مطیع الرحمٰن

مطیع الرحمن پاکستانی جنگجو ہیں جنھیں القاعدہ تنظیم کے منصوبہ سازوں کے سربراہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ سنہ 2006 میں مائع بم کے ذریعے بحر اوقیانوس میں ایک طیارے کو اڑانے کی سازش کے معمار تھے جسے ناکارہ بنا دیا گیا۔

ان کی اس پاکستانی پولیس اہلکار کے طور پر بھی شناخت کی گئی ہے جس نے سنہ 2002 میں وال سٹریٹ جرنل کے صحافی ڈینیئل پرل کو اغوا کرنے میں کردار ادا کیا تھا۔

ابو خلیل المدنی

ابو خلیل المدنی کے بارے میں بہت کم معلومات حاصل ہیں۔ جولائي سنہ 2008 میں ایک ویڈیو کے ذریعے ان کی شناخت القاعدہ کی شوریٰ کونسل کے رکن کے طور کی گئی۔ ان کے نام سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ ان کی وطنیت سعودی عرب ہے۔

آدم گدان

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اسلام قبول کرنے کے بعد وہ سنہ 1998 میں پاکستان منتقل ہو گئے

آدم گدان امریکی شہری ہیں اور ان کی پرورش کیلی فورنیا میں ہوئي ہے۔ وہ القاعدہ کے بڑے پروپیگنڈا کرنے والے کے طور پر معروف ہیں اور کئی ویڈیوز میں انھیں دیکھا گیا ہے۔

نوجوانی میں اسلام قبول کرنے کے بعد وہ سنہ 1998 میں پاکستان منتقل ہو گئے اور ایک افغان پناہ گزین سے شادی کی۔ گدان نے القاعدہ کے لیے مترجم کا کام کیا اور القاعدہ کے فیلڈ کمانڈر ابو زبیدہ کے ساتھی بن گئے۔ بعد میں انھیں افغانستان کے ایک کمیپ میں تربیت بھی دی گئي۔

ابو مصعب عبدالودود

عبدالودود اسلامی مغرب کے علاقے میں القاعدہ کے سربراہ ہیں۔ وہ یونیورسٹی کے سابق طالب علم ہیں اور بم بنانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

وہ سنہ 2004 کے وسط میں الجزائر کی اسلامی جنگجو تنظیم سلفی گروپ برائے تبلیغ و جنگ (جی ایس پی سی) کے سربراہ بن گئے۔

یونیورسٹی سے نکلنے کے بعد سنہ 1995 میں عبدالودود مسلح اسلامی تنظیم (جی آئي اے) میں شامل ہو گئے اور پھی جی ایس پی سی میں شامل ہوئے۔

اسی بارے میں