امریکہ نے گوانتاناموبے سے چھ قیدی رہا کر دیے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption چھ قیدیوں کو رہا کر کے رہنےہ کے لے یوروگواۓ بھجوا دیا ہےـ

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے گوانتاناموبے سے چھ قیدیوں کو رہا کر کے آباد ہونے کے لیے یوراگوئے بھجوا دیا ہے۔

اتوار کے روز پینٹاگان سے جاری ایک بیان کے مطابق رہا ہونے والوں میں ایک تیونس، ایک فلسطین اور چار شام کے شہری ہیں۔

ان افراد کو القائدہ سے تعلق کے شبہ میں گرفتار کیا گیا تھا مگر ان پر کبھی فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔

یوراگوائے کے صدر جوزۓ موجیکا نے اس سال مارچ میں ان قیدیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپنے ملک میں پناہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

پینٹاگون سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا گوانتاناموبے کی جیل کو بند کر نے کی کوششوں میں یوروگوئے کی حکومت کی مدد پر شکرگزار ہےـ

یاد رہے کہ گوانتانامو میں موجود 172 قیدیوں میں سے نصف سے زائد کی منتقلی کی منظوری دی جا چکی ہے مگر وہ غیر محفوظ یا غیر مستحکم ممالک کے شہری ہیں اس لیے ان کو واپس نہیں بھجوایا جا سکا۔

اب تک 50 سے زائد ممالک گوانتانامو سے رہائی پانے والے قیدیوں کو پناہ دے چکے ہیں مگر لاطینی امریکہ میں سلواڈور واحد ملک ہے جس نے 2012 میں دو قیدیوں کو پناہ دی۔

امریکہ کے مطابق یوراگوئے بھجوائے جانے والے قیدیوں کے نام احمد عدنان احجم، عمر محمود فراج، عبدلبن محمد ابِس اورگی، محمد تاماتن اور جیحد دئیب ہیں۔

یوراگوۓ میں حال ہی میں کیے جا نے والے ایک سروے کے مطابق عوام کی اکثریت ان قیدیوں کی آمد کے خلاف ہےـ

مگر ملک کے صدر جوزۓ موجیکا جو خود فوجی دورِ حکومت میں دس سال قید کاٹ چکے ہیں، رہائی پانے والے قیدیوں کو پناہ دینے کے حق میں ہیں۔

جمعے کو چھ قیدیوں کو لینے کے عزم کو دوہراتے ہوئے ان کا کہنا تھا، یوراگوائے گوانتانامو بے میں ایک خوفناک اغوا کا سامنا کرنے والے انسانوں کو اپنی مہمان نوازی کی پیشکش کر رہا ہے۔

اسی بارے میں