وہ شخص جس نے 100 بم تلاش کیے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption صرف 20 برس کی عمر میں سکاٹ کو 30 آدمیوں کے دستے میں سب سے آگے جانے اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری دی گئی

افغانستان کی لڑائی کے دوران امپرووائزڈ ایکسپلوزو ڈیوائسز یعنی ایل ای ڈیز برطانوی فوجیوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھیں لیکن انھی بموں کی تلاش کرنے کام کرتے ہوئے کیسا محسوس ہوتا ہے؟

ہلمند کے گرد آلود صوبے میں گھریلو ساختہ بم زمین میں دبائے گئے تھے اور یہ طالبان کا سب سے خوفناک ہتھیار تھے۔

انتھونی لیمبرٹ جو ہلمند کے ٹراما ہسپتال میں سرجن کمانڈر رہے ہیں اور کئی زخمیوں کا علاج کر چکے ہیں کہتے ہیں ’جو لوگ دھماکوں کا شکار ہوتے ہیں ان کی حالت خراب ہوتی ہے اور بعض اوقات جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں وہ ایک انسان بھی نہیں لگ رہے ہوتے۔‘

فوجی اہلکار کرس سکاٹ جب پہلی مرتبہ ستمبر سنہ 2011 میں افغانستان گئے تو برطانوی فوج نے اسی وقت ان حملوں سے بچنے کے لیے ایل ای ڈیز کی تلاش کا فیصلہ کیا۔

صرف 20 برس کی عمر میں سکاٹ کو 30 آدمیوں کے دستے میں سب سے آگے جانے اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری دیتے ہوئے ایل ای ڈیز تلاش کرنے کا کام ملا۔

کرس کہتے ہیں ’میں اس ٹیم میں سب سے آگے تھا، پہلا آدمی جسے زمین کی جانچ کرنا تھی اور پوری ٹیم کو محفوظ گزارنا تھا۔‘

’میں اس کام میں اچھا تھا اس لیے کیونکہ پوری پلیٹُون میں سے مجھ پر اس کام کے لیے اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ یہ ایک طرح سے مجھے میری اہمیت کا احساس دلاتا تھا۔‘

سکاٹ کے دستے کو روٹ 611 کی حفاظت کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ یہ ایک مرکزی سڑک ہے جو ہلمند کے مرکزی شہروں کو ملاتی ہے۔ نہ صرف مقامی افراد اور افواج بلکہ طالبان بھی اس راستے کا استعمال کرتے ہیں اس لیے یہاں ایل ای ڈیز کا ہونا یقینی بن جاتا تھا۔

بارودی سرنگوں کی نشاندہی کرنے والے آلےسے لیس سکاٹ گگشت کے علاقے میں ایل ای ڈیز کی تلاش کرتے لیکن ان کی ذمہ داری دوسرے لوگوں کی حفاظت کرنا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برطانیہ کے تمام جنگی فوجی نومبر سنہ 2014 میں افغانستان سے لوٹ گئے

سکاٹ کا کہنا ہے ’آپ اسے اپنے حواسوں پر سوار نہیں ہونے دے سکتے۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو آپ حواس باختہ ہوجاتے ہیں اور حتیٰ کے آپ بستر تک سے نہیں اٹھ سکتے۔ اس کام کا دباؤ ناقابلِ یقین حد تک ہے۔‘

سکاٹ کی والدہ لیزلی کے لیے افغانستان میں سکاٹ کا کام خوفزدہ کر دینے والا تھا۔

لیزلی کے بقول ’وہ مجھے پوری طرح باخبر رکھتا تھا اور میں جانتی تھی کے وہ سب سے آگے جانے والا شخص ہے۔‘

طالبان ہمیشہ اس جگہ کوئی نہ کوئی نشانی چھوڑ جاتے ہیں جہاں بم نصب کیا گیا ہو تاکہ انھیں یاد رہے کہ یہاں بم ہے۔ اگر ایسی کوئی مشکوک چیز دکھائی دے تو سکاٹ پہلا شخص ہوگا جو زمین پر منہ کے بل لیٹ کر ارد گرد کے علاقے کی جانچ کرے گا۔

سکاٹ کہتے ہیں ’آپ کو فوراً پیٹ کے بل لیٹنا ہے اور ہاتھوں کی مدد سے جتنا دور ممکن ہو جانا ہے اور اپنے چہرے کو دھماکے کے مقام سے جتنا ممکن ہو دور کرنا ہے تاکہ کسی بھی دھماکے کی صورت میں آپ کا چہرے محفوظ رہے۔ ایسی حالت میں آپ ایک ایک پتھر، گرد کے ذرّات اور مٹی کو دھیرے دھیرے تلاش کرتے ہیں۔‘

’ اگر مجھے کچھ نہیں ملتا تو میں سب سے کہوں گا کہ سب ٹھیک ہے لیکن اس کے باوجود وہاں پہلا قدم مجھے ہی رکھنا ہو گا۔ تک مجھے بھی معلوم ہوگا کہ سب ٹھیک ہے۔ لیکن اگر میں کہتا ہوں کہ سب ٹھیک ہے اور میرے پیچھے آنے والا کوئی شخص پہلے آگے بڑھ جاتا ہے اور دھماکہ ہوتا ہے تو یہ تباہ کن ہوگا۔ یہ انتہائی خوفناک احساس ہوگا کہ میں نے کہا کہ سب ٹھیک ہے اور ایسا نہیں تھا۔‘

سکاٹ کی والدہ لیزلی نے اپنے بیٹے کے افغانستان قیام کے دوران اپنے خیالات کو ایک ڈائری میں تحریر کیا اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے اس عرصے میں کتنی بے چینی محسوس کی۔

افغانستان میں چھ ماہ کے قیام کے دوران سکاٹ نے 100 ایل ای ڈی ڈھونڈ نکالے جنھیں بعد میں تباہ کیا گیا اور بہت سے لوگوں کی جانیں بچ گئیں۔

سکاٹ کا کہنا ہے کہ ’ایسا کرکے آپ کو احساس کامیابی ہوتا ہے۔ ہاں میں نے اسے ڈھونڈ لیا تم نہ اسے یہاں مجھے مارنے کے لیے لگایا تھا، میں نے اسے تلاش کر لیا۔‘

تاہم سکاٹ کی واپسی سے قبل آخری مشن کی یادوں نے بہت گہرے زخم چھوڑے۔ آخری مشن میں ان کے ہمراہ دو افسران سمیت تین لوگ تھے کہ اچانک انھوں نے ایک زور دار دھماکہ سنا۔

سکاٹ کے بقول ’مجھے اتنا یاد ہے کہ مجھے دھکا لگا اور میں ایک طرف کو نیچے گر گیا۔ میرا چہرا گرد سے اٹ گیا میرے ارد گرد اعضا بکھرے پڑے تھے اور میرا پہلا خیال یہ تھا کہ شاید یہ میں ہوں۔‘

’میں نے مڑ کر دیا تو کیپٹن باؤرز نہیں رہے تھے۔ وہ وہاں نہیں تھے۔ میرے ساتھی بالکے نے چلا کر کہا باس کہاں ہیں، اور ہم نے ارد گرد دیکھا وہ تقریباً بیس میٹر دور تھے اور ان کی جسم صحیح حالت میں نہیں تھا۔‘

کیپٹن باؤرز اس دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

سکاٹ اب بھی برطانوی فوج کا حصہ ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آخری مشن کو کبھی نہیں بھول سکتے۔

سکاٹ کا کہنا ہے ’میں آگے جانے والا آدمی تھا، میرا کام تھا کے یقینی بناؤں کے ایسا نہ ہو۔ میں اس بارے میں ہر روز سوچتا ہوں کہ شاید میں نے کوئی چیز دیکھنے میں کوتاہی کر دی۔‘

میں اس بارے میں سوچنا بند نہیں کر سکتا اور اس آخری دن کے بعد میں نے طے کیا کے میں پھر کبھی آگے جانے والا آدمی نہیں بنوں گا۔‘

اسی بارے میں