’انسانی امداد کے لیے سولہ ارب ڈالر درکار ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام سے نکلنے والے لاکھوں مہاجرین نے ترکی، اردن اور عراق میں پناہ لی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ آیندہ برس اس کو دنیا بھر میں انسانی امداد کے کاموں کے لیے سولہ ارب ڈالر درکار ہوں گے جس میں سے آدھے سے زیادہ رقم شام سے ہجرت کر کے دوسرے ملکوں میں پناہ لینے والوں پر خرچ کرنا ہو گی۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یہ رقم دنیا بھر میں پانچ کروڑ ستر لاکھ انسانوں پر خرچ کی جائے گی جو انتہائی غیر محفوظ اور کمزور ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے ادارے کے سربراہ کا کہنا تھا اتنی بڑی رقم کی ضرورت انتہائی غیر معمولی ہے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے یہ بات ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امدادی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ شام میں امدادی کام جاری رکھنے کے لیے ان کے پاس رقم ختم ہو رہی ہے۔

گزشتہ ہفتے خوراک کے عالمی ادارے نے کہا تھا کہ شامی مہاجرین کو دی جانے والی خوارک کی امداد میں اسے کمی کرنا پڑ رہی ہے۔

اقوام متحدہ نے شام کے اندر بے گھر ہونے والے افراد کی امداد جاری رکھنے کے لیے دو اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کی امداد کی درخواست کی ہے۔

اس کے علاوہ اقوام متحدہ کو چار اعشاریہ چار ارب ڈالر کی ضرورت ہے تاکہ وہ ہمسایہ ملکوں میں پناہ لینے والے بتیس لاکھ شامی مہاجرین کی مدد کر سکے۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے انڈر سیکریٹری جنرل کا ولیئر آموس کا کہنا ہے کہ امداد کی ضرورت ان کی امداد مہیا کرنے کی استطاعت سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ آئندہ برس سینٹرل افریقی رپبلک، عراق، جنوبی سوڈان اور شام میں امداد مہیا کیا جانا ترجیحات میں رہے گا۔

انھوں نے کہا کہ مطلوبہ رقم کا ستر فیصد ان بحرانوں سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کے لیے خرچ ہو گی۔

باقی رقم افغانستان، ڈیموکریٹک رپبلکن کانگو، برما، فلسطین، سومالیہ، سوڈان، یوکرین اور یمن میں امداد کے لیے چاہیے۔

اسی بارے میں