’فلسطینی عمارتوں پر اسرائیلی بمباری جنگی جرم‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 50 اپارٹمنٹس پر مشتمل 16 منزلہ اٹالیئن کمپلیکس کا ایک حصہ منہدم ہو گیا

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ رواں برس غزہ پر اسرائیلی حملوں کے آخری دنوں میں چار بلند عمارتوں پر کیے جانے والے فضائی حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تباہی ارادتاً کی گئی اور ان حملوں کی کوئی عسکری توجیہ نہیں ہے۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

فلسطین اور اسرائیل کا تنازع کیا ہے؟ دیکھیے قندیل شام کی رپورٹ

ادارے نے ان حملوں کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر اسرائیل کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں عائد کیے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور اس میں حماس کی جانب سے اس عمارتوں کے استعمال کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

لندن میں اسرائیل کے سفارت خانے نے کہا ہے کہ ایمنیسٹی کو اس کی بجائے اسرائیلی شہری آبادی پر فلسطینیوں کی جانب سے داغے جانے والے راکٹوں کی تحقیقات کرنی چاہیے تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ظفر ٹاور 4 جہاں 44 خاندان آباد تھے، ملبے کا ڈھیر بن گیا

اقوامِ متحدہ کے مطابق اسرائیل اور حماس کی قیادت میں فلسطینی عسکری گروہوں کے درمیان 50 دن تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں کم سے کم 2189 فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں 1486 عام شہری تھے، جب کہ 11 ہزار افراد زخمی ہوئے۔ دوسری جانب اسرائیل کے 67 فوجی اور چھ شہری ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔

لڑائی کے آخری چار دنوں میں اسرائیل کے جنگی جہازوں نے چار عمارتوں پر بڑے بم گرائے جن میں غزہ شہر میں واقع 12 منزلہ ظفر 4 ٹاور، 16 منزلہ اٹالیئن کمپلیکس، 13 منزلہ الباشا ٹاور اور رفح کا چار منزلہ میونسپل کمرشل سینٹر شامل ہیں۔

ایمنیٹسی انٹرنیشنل نے تسلیم کیا ہے کہ ان چاروں حملوں میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی کیونکہ اسرائیلی فوج نے لوگوں کو فون کر کے اور چھتوں پر تنبیہی فائر کر کے یہ یقینی بنایا تھا کہ رہائشی ان عمارتوں سے نکل جائیں۔

لیکن ادارے کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں قریبی عمارتوں کے لوگ زخمی ہوئے اور کئی لوگ اپنے مال اسباب، گھروں اور کاروباروں سے محروم ہو گئے۔

ایمنیسٹی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام نے اس بارے میں معلومات فراہم نہیں کی ہیں کہ ان عمارتوں کو کیوں تباہ کیا گیا، سوائے اس کے کہ ایک عمارت حماس کا کمانڈ سینٹر تھی اور فلسسطینی عسکریت پسندوں کو ایک دوسری عمارت سے سہولیات فراہم کی جا رہی تھیں۔

ایمنیسٹی کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ڈائریکٹر فلپ لُوتھر کا کہنا ہے: ’ہمیں حاصل ہونے والے شواہد سے صاف دکھائی دیتا ہے کہ بڑے پیمانے پر تباہی جان بوجھ کر پھیلائی گئی جس کی کوئی عسکری توجیہ نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 50 دن تک جاری رہنے والی اس لڑائی میں کم سے کم 2189 فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں 1486 عام شہری تھے

’موقعے سے حاصل ہونے والے شواہد اور اس وقت اسرائیلی فوج کے ترجمانوں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حملے غزہ کے لوگوں کے لیے اجتماعی سزا تھے جس کے تحت ان کی سہولیات کو تباہ کیا گیا۔‘

فلپ لُوتھر کا مزید کہنا تھا اگر اسرائیل فوج کا یہ خیال تھا کہ عمارتوں کے کچھ حصے عسکریت پسندوں کے استعمال میں ہیں تو بھی انھیں حملہ کرنے کے دوسرے طریقوں کا استعمال کرنا چاہیے تھا تاکہ شہریوں کی املاک کو کم سے کم نقصان پہنچتا۔

اسرائیل کے سفارت خانے نے ایمنیسٹی کی رپورٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے صرف فلسطینیوں کے نقصان پر توجہ دی ہے بجائے اس کے کہ فلسطینی عسکریت پسندوں کی جانب سے اسرائیلی آبادیوں پر مسلسل اور جان بوجھ کر کیے جانے والے راکٹ اور مارٹر حملوں کی تحقیقات کی جاتیں۔

بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے کبھی جان بوجھ کر شہری آبادی یا لوگوں کی املاک کو نشانہ نہیں بنایا۔

ایمنٹسی کا کہنا ہے کہ اس کی آئندہ رپورٹ حماس کی جانب سے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزیوں سے متعلق ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ کی جانب سے کیے جانے والے راکٹ حملوں کی بھی تحقیقات کی جانی چاہییں

اسی بارے میں