پسٹوریئس مقدمے میں استغاثہ کو اپیل دائر کرنے کا اختیار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس مقدمے کی طویل سماعت کے بعد جج نے پسٹوریئس کو ارادتاً قتل کےالزام سے بری کیا تھا لیکن انھیں قتلِ خطا کا مجرم قرار دیا تھا

جنوبی افریقہ میں جج نے ایتھلیٹ آسکر پسٹوریئس کو قتل کے الزام سے بری کرنے کے خلاف استغاثہ کو اپیل دائر کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔

جج تھوكوسیل ماسيپا کا کہنا تھا کہ استغاثہ آسکر پسٹوریئس کو قتل کے الزام سے بری کرنے کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں تاہم وہ انھیں دی جانے والی پانچ برس کی سزا کے خلاف اپیل دائر نہیں کر سکتے۔

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ کے ایتھلیٹ آسکر پسٹوریئس کو گذشتہ برس اپنی گرل فرینڈ ریوا سٹین کیمپ کو غلطی سے قتل کرنے کے جرم میں پانچ برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

دوسری جانب پسٹوریئس کے وکلا نے اس اپیل کی مخالفت کی ہے۔

آسکر پسٹوریئس مقدمے کی سماعت اب جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ آف اپیل میں کی جائے گی۔

جنوبی افریقہ کے ایتھلیٹ کے والد ہینکی پسٹوریئس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ مقدمہ اس حد تک نہیں جانا چاہیے۔

انھوں نے کہا ’آسکر ایک مضبوط انسان ہیں، انھیں مضبوط ہونا چاہیے کیونکہ وہ ایسے ہی پلے بڑھے ہیں۔ زندگی میں ایسی بہت سی چیزیں ہیں خاص طور پر آسکر جیسے انسان کے لیے اور یہ مناسب نہیں ہے۔‘

اس مقدمے کے استغاثہ نے دلیل دی کہ جج تھوكوسیل ماسيپا نے آسکر پسٹوریئس کو قتل کے مقدمے سے بری کرتے وقت قانون کو سمجھنے میں غلطی تھی کہ انھوں نے اپنی گرل فرینڈ ریوا سٹین کیمپ کو غلطی سے قتل کیا۔

بدھ کو ہونے والی اس مقدمے کی سماعت کے موقع پر آسکر پسٹوریئس عدالت میں موجود نہیں تھے۔

جج کا مزید کہنا تھا کہ وہ نہیں کہہ سکتیں کہ سپریم کورٹ آف اپیل میں اس مقدمے کی کامیابی کا امکان کم ہے۔

تاہم تھوكوسیل ماسيپا نے استغاثہ کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ آسکر پسٹوریئس کو دی جانے والی سزا کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے کیونکہ ریوا سٹین کیمپ کے والدین پسٹوریئس کو دی جانے والی سزا پر خوش ہیں۔

خیال رہے کہ اس مقدمے کی طویل سماعت کے بعد جج نے پسٹوریئس کو ارادتاً قتل کےالزام سے بری کیا تھا لیکن انھیں قتلِ خطا کا مجرم قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں