دنیا ماحولیاتی المیے کے دہانے پر کھڑی ہے: جان کیری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیرو میں موسمی تبدیلیوں سے متعلق شرکا کے مابین اختلافات کے باعث مذاکرات میں کسی پیش رفت پر پہنچنے کے امکانات کم ہیں

پیرو کے دارالحکومت لیما میں جاری موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق مذاکرات آخری دن میں داخل ہو گئے ہیں، تاہم امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کی جانب سے کی جانے والی جذباتی اپیل کے باوجود شرکا میں اختلافات باقی ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے مذاکرات کے شرکا کو بتایا کہ دنیا ’اب بھی اس راستے پر گامزن ہے جس کا انجام المیے پر ہو گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کسی معاہدے پر پہنچنا ’صرف اختیاری‘ نہیں بلکہ اس کی فوری ضرورت ہے۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے حوالے سے کسی ملک کو بھی مزید ’کھلی چھٹی‘ نہیں ملنی چاہیے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے ایسا کرنا مشکل ہے تاہم ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دنیا میں آدھی سے زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کا انھی ممالک سے ہو رہا ہے اور اس لیے یہ ضروری ہے کہ وہ بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں۔

تاہم متعدد ممالک جن میں چین بھی شامل ہے نے امریکی وزیرِ خارجہ کی اس تجویز کی مخالفت کی۔

ان ممالک کا موقف ہے کہ کون ہے جو مشترک مگر الگ الگ ذمہ داریوں کے نظریے سے وابستہ رہے گا۔

پیرو میں موسمی تبدیلیوں سے متعلق شرکا کے مابین اختلافات کے باعث مذاکرات میں کسی پیش رفت پر پہنچنے کے امکانات کم ہیں۔

بہت سے ترقی یافتہ ممالک اقوامِ متحدہ کی درجہ بندی کے عمل میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ اب تک امیر ممالک سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے وعدوں پر عمل کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

امیر ممالک اور امریکہ کا موقف ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے بارے میں پرانے قواعد فرسودہ ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ ہر کوئی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے۔

کچھ ممالک لیما میں موسمی تبدیلیوں کے حوالے سے تیار کیے جانے والے ٹیکسٹ پر شکوک و شبہات ظاہر کر رہے ہیں۔

ان کا موقف ہے کہ یہ امتیاز کے تصور کو حل کرنے کی ایک کوشش سنہ 1992 کے اقوامِ متحدہ کے ماحول کے بارے میں فریم ورک میں شامل تھی۔

اسی بارے میں