مصر: 439 اسلام پسند مظاہرین پر فوجی عدالتوں میں مقدمے

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سابق صدر مرسی کی فوج کے ہاتھوں معزولی کے بعد حکام نے اسلامی اور سکیولر کارکنوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن شروع کیا تھا

مصر میں عدالتی حکام نے گذشتہ سال اگست میں ہونے والے مظاہروں کے دوران سرکاری عمارتوں پر حملوں کے الزام میں 439 افراد پر فوجی عدالتوں میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان افراد کے مقدمات صدر عبدالفتح السیسی کی جانب سے سرکاری اثاثوں کو نشانہ بنانے والے عام شہریوں پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کی اجازت کے فرمان کے بعد فوجی عدالتوں کو بھیجے گئے ہیں۔

حقوقِ انسانی کے گروپ مصر میں فوجی عدالتوں پر تنقید کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان میں ملزمان کو وہ برائے نام قانونی تحفظ بھی میسر نہیں ہوتا جو عام عدالتوں میں انھیں مل سکتا ہے۔

مصری حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ان 439 اسلام پسند ملزمان میں سے 300 کا تعلق جنوبی صوبے منیا سے ہے جبکہ باقی دریائے نیل کے کنارے واقع صوبے بہیرہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

مصر میں اخوان المسلمین کے سربراہ محمد مرسی کی ملکی صدارت سے معزولی کے بعد سے سے اب تک اجتماعی مقدمات میں 15 ہزار سے زیادہ مصری باشندوں کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں ہی مصر کی ایک عدالت نے اگست 2013 میں دارالحکومت قاہرہ کے قریب ایک پولیس سٹیشن پر حملے میں 12 اہلکاروں کی ہلاکت کے مقدمے میں اخوان المسلمین کے 188 حامیوں کو سزائے موت سنائی ہے۔

مصر میں حسنی مبارک کی معزولی کے بعد ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں اسلام پسند رہنما محمد مرسی ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے تاہم فوج نے انھیں ایک سال بعد جولائی سنہ 2013 میں برطرف کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عبدالفتح السیسی نے حال ہی میں سرکاری اثاثوں کو نشانہ بنانے والے عام شہریوں پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلانے کی اجازت دی ہے

اس کے بعد صدر مرسی کو معزول کرنے والے فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتح السیسی اپنے عہدے سے استعفی دے کر صدارتی انتخابات کے ذریعے ملک کے نئے صدر منتخب ہو گئے تھے۔

عدالت کی جانب یہ فیصلہ ایک ایسے وقت آیا ہے جب گذشتہ ماہ ایک عدالت نے معزول مصری صدر حسنی مبارک کے خلاف سنہ 2011 میں بغاوت کے دوران لوگوں کو قتل کرنے کی سازش کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کرتے ہوئے مقدمہ واپس لے لیا تھا۔

سابق صدر حسنی مبارک پر الزام تھا کہ انھوں نے سنہ 2011 میں شروع ہونے والی بغاوت کے دوران لوگوں کو قتل کرنے کی سازش کی تھی۔

جولائی 2013 میں سابق صدر مرسی کی فوج کے ہاتھوں معزولی کے بعد حکام نے اسلامی اور سکیولر کارکنوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن شروع کیا تھا۔

ان کارروائیوں میں اب تک 1,400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 15,000 سے زائد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں سینکڑوں کو سزائے موت بھی سنائی گئی ہے تاہم ابھی تک سزائے موت کے کسی فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ معزول صدر مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔

حقوق انسانی کی تنظیمیں مصر میں اخوان المسلمین کے خلاف کارروائیوں اور ان کو دی جانے والی سزاؤں پر متعدد بار تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔

اسی بارے میں