فٹبال کی پرستار سعودی خاتون سٹیڈیم سے بے دخل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مملکت میں مردوں اور عورتوں کا گھلنا ملنا سختی سے منع ہے

اتوار کے روز جاری کیے گۓ سعودی پولیس کے بیان مطابق ایک خاتون پرستار جو بھیس بدل کر فٹ بال کا میچ دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم میں داخل ہوئی تھی،انھیں حکام کی جانب سے سرخ کارڈ دکھا دیا گیا۔

سعودی ریاست میں مردوں اور عورتوں کا گھلنا ملنا سختی سے منع ہے اور عورتوں کی فٹ بال اسٹیڈیم میں داخلے پر پابندی ہے۔

لیکن جمعے کو جدہ کے الجوارا اسٹیڈیم میں عبدالطیف جیل سعودی پروفیشنل لیگ کے ایک میچ کے دوران ایک خاتون پرستار چپکے سے داخل ہونے میں کامیاب ہوگئی تھی۔

پولیس کے ترجمان عطی القریشی مطابق ریاض کی الشباب اور جدہ کی الاتحاد ٹیموں کے درمیان میچ پر تعینات سیکورٹی اہلکاروں سے بچنے کے لیے وہ مردوں کے کپڑے پہنے ہوئے تھی اور اس نے اپنا سر بھی ڈھانپا ہوا تھا۔

یو ٹیوب پر شئیر کی گئی ایک ویڈیو میں اس خاتون کو الشباب کلب کے مداحوں کے لیے مخصوص حصے میں کچھ خالی نشستوں کے درمیان بیٹھا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

کالے چشمے اور سیاہ لباس تن کیے اس عورت کو قریب بیٹھا شخص غور سے دیکھ رہا ہے۔

ویڈیو میں لگ رہا ہے کہ یہ خاتون ایک بہت بڑی ٹوپی اور الشباب کے سیاہ اور سفید رنگ والا دوپٹہ لی ہوئے ہے۔

پولیس ترجمان قریشی کا کہنا تھا کہ اس عورت کی اسٹیڈیم میں موجودگی قواعد و ضوابط کے خلاف ہے اور اس نے اپنا ٹکٹ انٹرنیٹ سے خریدا تھا۔

ترجمان نے اس بات کی تو وضاحت نہیں کی کہ آیا اس خاتون کے خلاف کوئی قانونی کاروائی کی جاۓ گی یا نہیں مگر ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی تفصیلات متعلقہ حکام کو بھجوا دی گئی ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جہاں عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ گھر سے باہر نکلنے اور شادی جیسے معاملات کے لیے بھی مرد سرپرست کی اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔

الشباب نے یہ میچ 1-0 سے جیت لیا تھا۔

اسی بارے میں