’تمام ممالک آلودگی میں کمی کے لیے اہداف مقرر کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اقوام متحدہ کی عالمی کانفرنس میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ابتدائی معاہدے پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔

ابتدائی معاہدے کے تحت درجہ حرارت بڑھنے کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے غریب ممالک کے لیے زیادہ فنڈ دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

پیرو کے دارالحکومت لیما میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں تنظیم کے رکن ممالک شریک تھے جنھوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں پر آئندہ سال ہونے والی بات چیت کے لیے وسیع تر خاکے کی منظوری دی گئی ہے۔

ابتدائی مسودے میں کہا گیا ہے کہ عالمی حدت میں اضافے کے ممکنہ نتائج سے نمٹنے کے لیے غریب ممالک کو زیادہ رقوم دی جائیں گی جبکہ ایک طریقہ کار مرتب کیا جائے گا جس سے معلوم لگایا جائے کے امیر ممالک کس حد تک آلودگی میں کمی کا وعدہ پورا کر رہے ہیں۔

ماحولیات کے لیے کام کرنے والوں نے اس ابتدائی معاہدے کو کمزور اور غیر موثر قرار دیا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں کے متعلق اس کانفرنس میں ایک سو چورانوے ممالک شریک تھے اور بات چیت میں امیر اور غریب ممالک کے درمیان واضح تقسیم سے ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا تھا۔

اجلاس کی صدارت کرنے والے پیرو کے وزیرِ ماحولیات مینوئل پلگر نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہاں کہ ابتدائی معاہدے سے ہر ایک کا کچھ نہ کچھ فائدہ ہوا ہے۔

’مجھے یہ کہنے کی اجازت دیں کہ سارا مسودہ مکمل طور پر درست نہیں ہے لیکن اس میں اراکین کی نقطہ نظر کا احترام ضرور کیا گیا ہے۔ اور یہ ہمارا اپنا ترتیب دیا ہوا متن ہے جس کی بنیاد کانفرنس کے صدر کو ملنے والی تجاویز پر ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے سب کو سنا ہے اور مجھے مکمل طور پر یہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ اس مسودے کے تحت بغیر کسی توقع کے ہم سب کو فائدہ ہے۔‘

معاہدے میں کہا گیا ہے کہ تمام ممالک طے شدہ ہدف کے علاوہ بھی آلودگی میں کمی کے لیے اپنے اہداف مقرر کریں گی۔ اور آئندہ سال نومبر تک ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کا ادارہ تمام ممالک کی کارکردگی رپورٹ جمع کروائے گا۔

معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بڑھتے ہوئے عالمی درجۂ حرارت کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک کو جو مالی نقصان ہو گا اس کا ازالہ کرنے کے لیے ایک منصوبہ شروع کیا جائے گا۔

لیما میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اجلاس میں شریک 194 ممالک میں سے سب کو اپنی مرضی کی چیز تو نہیں ملی لیکن کچھ نہ کچھ ضرور ملا ہے۔

یہ معاہدہ 2015 میں طے پانے والے معاہدے کی بیناد بنے گا اور ابتدائی معاہدے کی تفصیلات آئندہ سال فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ماحولیات پر ہونے والے عالمی سربراہی اجلاس پیش کی جائیں گی۔

توقع ہے کہ پیرس میں ہونے والے مذاکرات میں جامع عالمی معاہدہ ممکن ہوسکے گا۔

اسی بارے میں