بوکوحرام سے لڑنے سے انکار پر 54 فوجیوں کے لیے سزائے موت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ملزمان پر نائجیریا کی فوج کے ساتویں ڈویژن کے افسران کے خلاف بغاوت کی سازش کا الزام لگایا گیا۔

افریقی ملک نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران شدت پسند تنظیم بوکوحرام سے جنگ کرنے سے انکار پر 54 فوجیوں کو سزائے موت دینے کا حکم دیا گیا ہے۔

ان فوجیوں کو بغاوت کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

انھوں نے اگست میں بوکوحرام کے زیرِ تسلط تین قصبات پر دوبارہ قبضہ کرنے کی فوجی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔

فوجیوں کے ایک وکیل کا کہنا ہے کہ فوجی عدالت میں 59 فوجیوں پر مقدمہ چلا جن میں سے پانچ بری کر دیے گئے جبکہ 54 کو فائرنگ سکواڈ کا سامنا کرنا ہوگا۔

ان فوجیوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بوکوحرام کے شدت پسندوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مناسب اسلحہ اور گولہ بارود نہیں تھا۔

بوکوحرام سنہ 2009 سے نائجیریا میں سرگرم ہے اور وہ ملک کے شمال مشرقی حصے میں اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتی ہے۔

صرف رواں برس میں بوکوحرام سے منسوب شدت پسندی کی کارروائیوں میں دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں کو اپنا گھربار چھوڑنا پڑا ہے۔

کورٹ مارشل کی کارروائی اکتوبر میں شروع ہوئی تھی اور ذرائع ابلاغ کو اس تک رسائی نہیں دی گئی تھی۔

فوجیوں کے وکیل فیمی فالانا کا کہنا ہے کہ تمام ملزمان پر ’نائجیریا کے فوج کے ساتویں ڈویژن کے افسران کے خلاف بغاوت کی سازش کا الزام لگایا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تمام ملزمان نے اس الزام سے انکار کیا اور انھیں دی جانے والی سزا کی توثیق اعلیٰ فوجی حکام سے ہونا ضروری ہے۔

یہ رواں برس نائجیریا میں اس قسم کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل ستمبر میں 12 فوجیوں کو میدوگری نامی شہر میں اپنے کماندار کے قتل کی سازش اور بغاوت کا منصوبہ بنانے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

اسی بارے میں