ہیکنگ:’شمالی کوریا دہشگردی کا معاون ہو سکتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ u
Image caption ’دی انٹرویو‘ میں جیمز فرانکو اور سیتھ رجین نے دو صحافیوں کا کردار نبھایا ہے

صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ سونی پکچرز کی ہیکنگ کے بعد امریکہ شمالی کوریا کو دوباہ دہشت گردی کے معاون ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کا سوچ رہا ہے۔

سونی پکچرز کے ہیک کیے جانے کے واقعے کو سائبر سپیس میں جنگ کی بجائے لوٹ مار قرار دیتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کو اس فہرست میں واپس ڈالنے کا فیصلہ اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔

شمالی کوریا اس الزام کی تردید کرتا ہے کہ سونی پکچرز کی فلم ’دی انٹرویو‘ کی ہیکنگ میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں۔

اس فلم کے ایک تخلیاتی منظر میں شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ ین کا قتل دکھایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کچھ سینیماؤں کو ملنے والی دھکمیوں کے بعد سونی پکچرز نے’دی انٹرویو‘ کو کرسمس پر نمائش کے لیے پیش کرنے کا فیصلہ منسوخ کر دیا اور اب کپمنی اس فلم کی نمائش کے لیے متبادل ذرائع پر غور کر رہی ہے۔

سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر براک اوباما نے سونی پکچرز کی ہیکنگ ’سائبر سپیس میں لوٹ مار کی بڑی مہنگی واردات‘ قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ n

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ امریکی حکام تمام شواہد کی تحقیق کریں گے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ آیا شمالی کوریا کا نام اس فہرست میں دوبارہ شامل کردینا چاہیے جو دہشت گردی کی معاونت کرتی ہیں۔

’میں دیکھوں گا کہ ان حکام کی تفتیش کیا کہتی ہے۔‘

تاہم صدر اوباما کہنا تھا کہ سائبر سپیس میں حملہ کوئی جنگی کارروائی نہیں ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ نے شمالی کوریا کو 20 برس سے دہشت گردی کے معاون ممالک کی فہرست میں رکھا ہوا تھا اور سنہ 2008 میں اس کا نام فہرست سے اس وقت نکالا تھا جب شمالی کوریا اپنے تمام جوہری تنصیبات کی تدیق پر رضامند ہو گیا تھا۔

سنیچر کو امریکہ نے چین سے بھی کہا کہ وہ شمالی کوریا کے سائبر حملے کا توڑ نکالے، تاہم ابھی تک چین کی جانب سے اس امریکی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ شمالی کوریا کا سائبر نظام چین کے راستے سے گزرتا ہے۔

اس سے قبل امریکی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی کا کہنا تھا کہ سونی پکچرز پر سائیبر حملے میں شمالی کوریا ملوث ہے۔

نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان مارک سٹروح کا کہنا تھا ’ہم اس بات کو یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس سائیبر حملے میں شمالی کوریا کی حکومت ملوث ہے۔‘

اس سے قبل شمالی کوریانے امریکہ کے ساتھ مل کر فلمساز سونی پکچرز پر سائبر حملے کی تحقیقات کی پیشکش کرتے ہوئے اس حملے میں ملوث ہونے کے امریکی الزامات کی سختی سے مذمت کی۔

شمالی کوریا کے وزارتِ خارجہ نے امریکہ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ بے بنیاد الزامات لگا رہی ہے اور ان الزامات کو تحقیقات کے ذریعے غلط ثابت کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں