ہسپانوی شہزادی کو فراڈ کے مقدمے کا سامنا

ہسپانوی شہزادی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہسپانوی شہزادی اور ان کے شوہر ان الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں

یورپی ملک سپین کی شہزادی کرسٹینا کو اپنے شوہر کے کاروباری لین دین سے منسلک دھوکہ دہی کے ایک معاملے میں ایک مقدمے کا سامنا ہے۔

یہ جدید سپین کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی شاہی شخصیت کو مقدمے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

سپین کے بادشاہ ہوآن کارلوس کی چھوٹی بیٹی ایفانتا کرسٹینا کے شوہر ڈیوک آف پالما اناکی اردنگارین پر اپنے سابق کاروباری پارٹنر کے ساتھ مل کر مقامی حکومتوں سے مبینہ طور پر لاکھوں یورو ٹھگنے کے الزامات ہیں۔

ہسپانوی شہزادی اور ان کے شوہر ان الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ اردنگارین کی سپورٹس فاؤنڈیشن نے عوام کے پیسے کا غلط استعمال کیا ہے۔

الزام ہے کہ جب اردنگارین کھیلوں کے ایک خیراتی ادارے نووس انسٹیٹیوٹ کے انچارج تھے تو اس وقت وہاں سے 5.6 ملین یورو (7.5 ملین ڈالر) خرد برد کیا گیا تھا جو کہ عوام کا پیسہ تھا۔

شہزادی کرسٹینا، 49، اپنے شوہر کے کاروباری معاملات سے منسلک ہیں اور ان پر اس رقم میں سے 2.6 ملین یورو استعمال کرنے کا الزام ہے۔ وہ بادشاہ فلپ ششم کی بہن اور سابق بادشاہ ہوآن کارلوس کی چھوٹی بیٹی ہیں۔

یہ الزامات 2008-2007 کے کاروباری معاملات کے متعلق ہیں۔ اس سکینڈل کی وجہ سے شاہی خاندان کی شبیہ اور اعتماد کو نقصان پہنچا ہے۔

توقع ہے شہزادی بھی 16 دیگر مشتبہ افراد کے ساتھ کٹہرے میں موجود ہوں گی۔ وہ اپنے شوہر کے ہمراہ ایک کمپنی ایژون میں شراکت دار بھی تھیں۔

انتہائی دائیں بازو کی مزدور یونین ’مانوس لمپیاس‘ (صاف ہاتھ) نے اس معاملے پر مقدمہ کیا تھا اور وہ امید کرتی ہے کہ اس سلسلے میں شہزادی کو آٹھ سال جبکہ ان کے شوہر کو 26.5 سال قید کی سزا سنائی جائے۔

حالیہ برسوں میں بادشاہت کی مخالفت میں اضافہ ہوا ہے۔ ہوآن کارلوس نے 18 جون کو کئی مہینے بیمار رہنے کے بعد تخت چھوڑ دیا تھا۔

اسی بارے میں