تیونس انتخابات: مرزوقی کا شکست تسلیم کرنے سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مرزوقی نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے

تیونس کے عبوری صدر منصف مرزوقی نے ملک میں ہونے والے پہلے شفاف صدارتی انتخابات میں شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ ان کے حریف کی جانب سے فتح کا اعلان ’غیر جمہوری‘ ہے۔

اس سے قبل ان کے حریف الباجی قائد السبسی نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے اتوار کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ ایگزٹ پولز میں کہا گیا ہے کہ انھیں 55.5 فی صد ووٹ ملے ہیں۔

دارالحکومت تیونس میں 88 سالہ السبسی کے حامیوں نے جشن منایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption السبسی نےگذشتہ ماہ ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخابات میں 39 فی صد ووٹ حاصل کیے تھے

تاہم ان کے حریف اور ملک کے نگراں صدر منصف مرزوقی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انتخابات اتنے کانٹے کے تھے کہ نتائج کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

عبوری صدر مرزوقی نے کہا: ’جیت کا اعلان غیر جمہوری ہے۔ اگر ہم واقعی جمہوری ملک ہیں اور قانون کی پاسداری کرتے ہیں تو ہمیں انتظار کرنا چاہیے۔

’ہم آپ کو یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم فاتح رہے، ہم فاتح ہیں ہم فتح یاب ہوئے۔ تیونس نے جیت حاصل کی ہے اور آپ کامیاب ہوئے ہیں۔ آپ نے تیونس کے لیے، جمہوریت کے لیے اور انسانی حقوق کے لیے جیت حاصل کی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک ایگزٹ پولز میں کہا گیا ہے کہ السبسی کو 55.5 فی صد ووٹ ملے ہیں

ناقدین کا کہنا ہے کہ السبسی کی کامیابی کا مطلب بدنام نظام کی واپسی ہے جبکہ الباجی قائد کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکنوکریٹ ہیں اور ملک میں استحکام لائیں گے۔

واضح رہے کہ تیونس پہلا ملک تھا جس نے اپنے رہنما کو حکومت سے ہٹا کر خطے میں بغاوت کی ہوا چلائی تھی جسے ’عرب سپرنگ‘ کا نام دیا گیا تھا۔

تیونس میں دوسرے مرحلے کے انتخابات میں باضابطہ نتائج کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے تاہم ایک ایگزٹ پول میں السبسی کو 55.5 فی صد ووٹ ملنے کی پیش گوئی کی گئی ہے جبکہ دوسرے ایگزٹ پول میں بھی اسی قسم کی بات بتائی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایسبسی کے حامیوں نے دارالحکومت تیونس میں جشن منایا

تیونس میں انتخابات کے پیش نظر سکیورٹی کے انتظامات سخت کیے گئے تھے اور لیبیا کی سرحد کو بند کر دیا گيا تھا۔

اتوار کو کم از کم تین افراد پر مشتمل ایک حملہ آور گروہ نے کیروان شہر کے پاس ایک پولنگ سٹیشن کو نشانہ بنایا۔

سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ اس نے ایک حملہ آور کو ہلاک جبکہ تین افراد کو گرفتار کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جیت کا جشن مناتے تیونس باشندے

اتوار کو ووٹ ڈالنے کے عمل کے اختتام پر السبسی نے ایک مقامی ٹی وی چینل پر کہا: ’میں اپنی کامیابی کو تیونس کے شہیدوں کے نام کرتا ہوں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’میں مرزوقی کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور کسی کو بھی علیحدہ کیے بغیر اب ہم دونوں مل کر کام کریں گے۔‘

88 سالہ السبسی معزول صدر زین العابدین کی حکومت کا حصہ بھی رہ چکے ہیں اور ان انتخابات میں سیکیولر جماعت ندا تیونس (صدائے تیونس) کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مرزوقی تیونس کے عبوری صدر ہیں

ان کے مخالف 67 سالہ منصف مرزوقی سنہ 2011 سے عبوری صدر ہیں۔

مرزوقی انسانی حقوق کے کارکن ہیں اور سابقہ حکومت کے دور میں وہ جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

السبسی نے گذشتہ ماہ ہونے والے پہلے مرحلے کے صدارتی انتخابات میں 39 فی صد ووٹ حاصل کیے تھے۔

اسی بارے میں