کشتی جس نے 59 افراد کی جان بچائی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دو مکانوں کی چھت پر ایک 25 فٹ لمبی کشتی پڑی ہے

دس سال قبل انڈونیشیا کے بندا آچے میں آنے والے سونامی میں بسیاریا خاندان اپنے مکان کی اوپر والی منزل میں پھنس گیا تھا۔ پانی ان کی گردنوں تک پہنچ گیا تھا، لیکن ان کی جان اس وقت بچی جب ایک کشتی ان کے مکان کی چھت پر آ ٹکی۔

بندا آچے کے گاؤں لمپولو میں نئے مکانوں کے درمیان ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ دو مکانوں کی چھت پر ایک 25 فٹ لمبی کشتی پڑی ہے۔

چھت پر یہ پڑی کشتی سیاحوں میں بہت مشہور ہے۔ اس جگہ ایک بورڈ بھی نصب ہے جس پر ’مکانوں پر کشتی‘ درج ہے جو سیاحوں کو اس مکان کا راستہ بتاتی ہے۔ اس بورڈ پر کہانی بھی درج ہے کہ کس طرح اس کشتی نے 59 افراد کی جان بچائی۔

سونامی سے بچ جانے والوں میں ایک مقامی کاروباری خاتون فوزیہ بسیاریا شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر یہ کشتی ہمارے مکان پر آ کر نہ ٹکتی تو ہم سب ڈوب جاتے کیونکہ ہم میں سے کسی کو بھی تیرنا نہیں آتا تھا۔‘

فوزیہ اب بھی وہ وقت یاد کر کے رو پڑتی ہیں۔ ’کچھ دیر پہلے ہی زلزلہ آیا تھا اور لوگوں نے شور مچا دیا کہ سمندر کا پانی آ رہا ہے۔ ہم بوکھلا گئے اور پھر ہم نے سمندری لہریں آتی دیکھیں۔‘

’ہم میں سے کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے کیونکہ ہم نے ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے یومِ حساب آ گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’اگر یہ کشتی ہمارے مکان پر آ کر نہ ٹکتی تو ہم سب ڈوب جاتے کیونکہ ہم میں سے کسی کو بھی تیرنا نہیں آتا تھا‘

فوزیہ کا شوہر موٹر سائیکل لے کر خریداری کے لیے گیا ہوا تھا۔ فوزیہ نے پانچوں بچے لیے اور بھاگنے لگیں۔ جب پانی بہت قریب پہنچ گیا تو انھوں نے پناہ لینے کے لیے جگہ ڈھونڈنا شروع کی۔

فوزیہ کو ایک مکان ملا جس میں وہ گئیں اور پہلی منزل پر پہنچ گئیں۔ لیکن ان کو جلد ہی احساس ہو گیا کہ یہ مکان اتنا اونچا نہیں ہے۔

’ایک ہی منٹ میں پانی پہلی منزل تک پہنچ گیا۔ پہلی لہر کالی تھی اور ہمیں نہیں معلوم تھا کہ یہ پانی ہے یا تیل۔‘

دوسری لہر اس سے بھی زیادہ بلند تھی اور اس وقت تک فوزیہ کا خاندان پھنس گیا تھا: ’ہمارے سر چھت کو چھو رہے تھے۔ مجھے لگا کہ بس اب ڈوب جائیں گے۔‘

لیکن اسی لمحے ایک عجیب منظر نظر آیا جب انھوں نے ایک کشتی اپنی طرف آتے ہوئے دیکھی: ’لوگ چیخ رہے تھے اور پھر یہ کشتی اس مکان کی چھت پر آ ٹکی۔‘

فوزیہ کے 14 سالہ بیٹے نے چھت میں سوراخ کیا اور چھت پر چڑھ گیا اور خاندان کے دیگر افراد کو بھی اوپر کھینچا۔ سب لوگ ایک ایک کر کے کشتی میں بیٹھ گئے۔

’کشتی میں سوار ہونے کے بعد میں دعا ہی کرتی رہی۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے ہماری مدد کے لیے کشتی بھیجی ہے۔ لیکن کشتی میں بھی پانی بھرا ہوا تھا اور ہم نے اس کو سختی سے پکڑا ہوا تھا۔‘

کشتی پر سوار افراد نے اپنے آس پاس عمارتوں کو گرتے دیکھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لمپولا میں کہا جاتا ہے کہ 15 کشتیاں مکانوں پر آ ٹکی تھیں

فوزیہ کہتی ہیں: ’ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ اگرچہ سونامی کو دس سال ہو گئے ہیں لیکن میں جب اس کے بارے میں بات کرتی ہوں تو ایسا لگتا ہے جیسے کل ہی کا واقعہ ہو۔‘

پانی اتر جانے کے بعد بسیاریا خاندان لمپولو گاؤں سے دوسرے گاؤں منتقل ہو گیا لیکن وہ لاپتہ ہونے والے اہلِ خانہ کی تلاش کے لیے اس گاؤں آتے رہے۔

’مجھے نہیں معلوم کہ میرا شوہر کہاں ہے، میرے والدین کہاں ہیں۔ وہ بھی ہمارے ساتھ ہی نکلے تھے لیکن بوڑھے ہونے کے ناطے مجھے معلوم تھا کہ ان کا بچنا مشکل ہو گا۔‘

سونامی کے ایک سال بعد فوزیہ نے لمپولا میں مچھلی کا کاروبار شروع کر دیا۔

لمپولا میں کہا جاتا ہے کہ 15 کشتیاں مکانوں پر آ ٹکی تھیں۔ کشتی کے مالکان نے ان کشتیوں کو ہٹا دیا ہے لیکن جس کشتی نے بسیاریا خاندان کی جان بچائی اس کے مالک ذوالفقار نے اس کشتی کو اسی مکان پر لگے رہنے دیا۔

اب اس کشتی کو کشتیِ نوح سمجھا جاتا ہے: ’یہ کشتی ہر روز ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کیا ہوا تھا اور ہم کیسے بچے تھے۔‘

اسی بارے میں