سزائے موت پر عمل درآمد پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے: امریکہ

Image caption ’امریکی حکومت نے پشاور کے واقعے کے بعد پاکستان کے وزیراعظم سے بات کی اور ہر قسم کی مدد کرنے کی پیشکش کی تھی‘

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے پشاور واقعے کے بعد پھانسی کی سزا پر عمل درآمد سے پابندی ہٹانے کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔

یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہارف نے بریفنگ کے دوران کہی۔

ان کا کہنا تھا: ’معاف کیجیےگا، یہ واضح طور پر پاکستان کا مسئلہ ہے، پاکستان کا فیصلہ ہے، اسے جانچنا ہمارا کام نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت نے پشاور کے واقعے کے بعد پاکستان کے وزیراعظم سے بات کی اور ہر قسم کی مدد کرنے کی پیشکش کی تھی۔

دوسری جانب یورپی یونین نے پاکستان کی جانب سے سزائے موت دیے جانے پر عائد پابندی اٹھانے کی مذمت کرتے ہوئے پابندی کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان میں یورپی یونین کے مشن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں سانحۂ پشاور کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ غم کی اس گھڑی میں پاکستان کے ساتھ ہے لیکن مجرمان کو سزائے موت دینے کی حامی نہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سزائے موت موثر ہتھیار نہیں۔‘

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے ممبئی حملوں کے الزام میں قید لشکری طیبہ کے رہنما ذکی الرحمٰن لکھوی کو پاکستانی عدالت کی جانب سے ضمانت پر رہائی پر تشویش کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے ممبئی حملوں میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے یقین دہانی کروائی تھی اور امریکہ پاکستان پر زور دیتا ہے کہ وہ اس وعدے کو پورا کرے۔

یاد رہے کہ 17 دسمبر کو پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملے کے اگلے ہی دن وزیرِ اعظم نواز شریف نے دہشت گردی کے مقدمات میں سزائے موت پانے والے مجرموں کی سزا پر عمل درآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس اعلان کے بعد اب تک جی ایچ کیو پر حملے کے ایک مجرم محمد عقیل عرف ڈاکٹر عثمان اور سابق صدر پرویز مشرف پر حملے کے پانچ مجرمان سابق نائیک ارشد محمود، غلام سرور بھٹی، راشد محمود قریشی عرف ٹیپو، زبیر احمد اور اخلاص روسی کو فیصل آباد میں پھانسی دی جا چکی ہے۔

اسی بارے میں