ایم ایچ 17 طیارہ، روس نے ’خفیہ گواہ‘ پیش کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رواں برس 17 جولائی کو ملائیشیا کی پرواز ایم ایچ 17 نیدرلینڈز کے شہر ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہی تھی کہ روسی سرحد میں داخل ہونے سے قبل گر کر تباہ ہو گئی تھی

روس کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ انھیں یوکرین کے ایک اہل کار نے اس بات کا ثبوت فراہم کیا ہے کہ رواں برس جولائی میں ملائیشیا کے تباہ ہونے والے طیارے کو شاید یوکرین کی فضائیہ نے مار گرایا تھا۔

ایک ’خفیہ عینی شاید‘ نے روسی اخبار کو رواں ہفتے بتایا کہ سُو 25 لڑاکا پائلٹ نے غلط طیارے پر فضا سے فضا میں مار کرنے والا میزائل داغا۔

دوسری جانب یوکرین کی حکومت نے اس دعوے کو جھوٹ قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ رواں برس 17 جولائی کو ملائیشیا کی پرواز ایم ایچ 17 ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہی تھی کہ روسی سرحد میں داخل ہونے سے قبل گر کر تباہ ہو گئی تھی۔

یہ طیارہ لوہانسک کے علاقے کراسنی اور دونیتسک کے درمیان گر کر تباہ ہوا اور اس پر سوار تمام 283 مسافر اور عملے کے 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس طیارے کی تباہی کا شک سب سے پہلے روسی ساختہ بک میزائل پر کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ باغیوں نے روس سے حاصل کردہ بک میزائل کی مدد سے ملائیشیا ائیر لائن کی پرواز ایم ایچ 17 کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ طیارہ لوہانسک کے علاقے کراسنی اور دونیتسک کے درمیان گر کر تباہ ہوا اور اس پر سوار تمام 283 مسافر اور عملے کے 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے

ملائیشیا کے تباہ ہونے والے طیارے کی تفتیش کرنے والی انکوائری کمیٹی کے سربراہ فریڈ ویسٹربیک نے ہالینڈ کے براڈ کاسٹر این او ایس کو سنیچر کو بتایا ’اس بات کے متعد اشارے‘ ملے ہیں کہ روس سے حاصل کردہ بک میزائل کی مدد سے ملائیشیا ائیر لائن کی پرواز ایم ایچ 17 کو نشانہ بنایا گیا۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے تمام امکانات کو کھلا رکھا جا رہا ہے جس میں فضا سے اس طیارے کو تباہ کیے جانے کا امکان بھی موجود ہے۔

روسی حکام پہلے ہی یہ تجویز پیش کر چکے ہیں کہ یوکرین کے لڑاکا طیارے نے ملائیشین طیارے کو مار گرایا تھا تاہم جب سرکاری ٹی وی نے اس طیارے کی تصویر دکھائی جس میں اس طیارے کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا تاہم اس دعوے کو جعلی قرار دیا گیا۔

روس کی جانب سے پیش کیا جانے والا تازہ ترین ثبوت اس وقت سامنے آیا جب ایک شخص نے روسی اخبار سے رابطہ کرتے ہوئے کہا کہ جب ایم ایچ 17 طیارے مار گرایا گیا تو وہ اس وقت یوکرین کے شہر کے قریب ایئرپورٹ پر موجود تھا۔

روسی حکام کو انٹرویو دیتے ہوئے اس شخص کی آواز کو ڈیجیٹل طور پر تبدیل کیا گیا۔

اس شخص کا کہنا تھا کہ ایم ایچ 17 طیارے کے تباہ ہونے سے پہلے سُو 25 نامی طیارے جس میں فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل موجود تھے نے اڑان بھری۔

اس شخص نے پائلٹ کا نام کپٹن وولوشائن بتایا اور کہا کہ وہ بہت خوفزدہ تھا۔

اس شخص کا طیارے کے پائلٹ کے حوالے سے کہنا تھا کہ پائلٹ کے بقول ’جہاز غلط وقت پر اور غلط جگہ پر تھا۔‘

اس شخص کے تبصرے کو منگل کو روس کے سرکاری ٹی وی پر نشر کیا گیا جس کے بعد روس کی تحقیقاتی کمیٹی نے فوراً اعلان کیا کہ وہ اس شخص کے انٹرویو کا جائزہ لے گی۔

روس کی تحقیقاتی کمیٹی کے ترجمان ویلادمیر مارکن نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا کہ تفتیش کاروں نے اس شخص سے ملاقات کی ہے اور اس شخص نے پولی گراف کا ٹیسٹ بھی پاس کیا ہے۔

روس کی خبر رساں ایجنسی انٹر فیکس نے مارکن کے حوالے سے بتایا کہ عینی شاید کا ثبوت نہ صرف بہت اہم ہے بلکہ یہ اس بات کو بھی ثابت کرتا ہے کہ یوکرین کی مسلح افواج اس طیارے کو مار گرانے میں شامل ہیں۔

اسی بارے میں