سعودی عرب میں ایک پاکستانی کا سرقلم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سعودی عرب میں جمعرات کے روز ایک اور پاکستانی کا سر قلم کر دیا گیا ہے۔گزشتہ دو ماہ میں سعودی عرب میں بارہ پاکستانیوں کے سر قلم کیے جا چکے ہیں۔

سعودی عرب میں رواں برس اب تک 85 غیرملکیوں کو موت کی سزا دی جا چکی ہے جن میں سے بارہ کا تعلق پاکستان سے ہے۔

سعودی عرب کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں پر بڑے پیمانے پر مجرموں کو پھانسی کی سزائیں دی جاتی ہیں۔

سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے اعلان کے مطابق پاکستانی شہری اسماعیل خان سید کو بڑی مقدار میں ہیروئن کی سمگلنگ کے جرم میں موت کی سزا دی گئی۔

وزارت داخلہ کے مطابق رواں برس ایمفیٹا مائن اور دوسری منشیات کے علاوہ اٹھارہ کلوگرام ہیروئن بھی پکڑی گئی۔

اقوام متحدہ کے منشیات اور اور جرائم سے متعلق ادارے کے مطابق حالیہ برسوں میں خلیجی ممالک غیر قانونی منشیات کی ایک بڑی منڈی بن چکے ہیں

سعودی عرب میں منشیات کے لین دین کے علاوہ قتل، ریپ، اسلام سے انحراف اور ڈاکہ زنی کی سزا بھی موت ہے۔