سویڈن میں مسجد نذرِ آتش، پانچ زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ afp getty
Image caption آگ بجھانے کے عملے نے مسجد میں لگائی گئی آگ پر قابو پایا

سویڈن کے شہر ایسکلسٹیونا میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک شخص نے کرسمس کے تہوار کے دن ایک مسجد کو آگ لگا دی ہے اور اس واقعے میں پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب سویڈین میں تارکینِ وطن کے بارے میں پالیسیوں کے حوالے سے بحث زوروں پر ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جمعرات کی شام 15 سے 20 افراد ایک رہائشی عمارت کی نچلی منزل میں بنائی گئی مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے کہ عمارت میں آگ لگ گئی۔

مقامی پولیس کے ترجمان لارس فرینزل کا کہنا ہے کہ ’ایک عینی شاہد نے ایک شخص کو کھڑکی کے راستے عمارت میں کچھ پھینکتے ہوئے دیکھا جس کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔

پولیس ترجمان کے مطابق اس واقعے کے بعد مسجد میں موجود پانچ افراد کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس واقعے کو جان بوجھ کر آگ لگانے کا واقعہ قرار دے رہی ہے تاہم ابھی اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

خیال رہے کہ ایسکلسٹیونا میں بڑی تعداد میں غیر ملکی تارکینِ وطن آباد ہیں اور یہاں رواں برس کے آغاز میں سویڈن کی امیگریشن پالیسی کے مخالف نیو نازی گروپوں نے پرتشدد مظاہرے بھی کیے تھے۔

سویڈن میں انتہائی دائیں بازو کے خیالات کے حامی گروپ ملک میں آنے والے تارکینِ وطن کی تعداد میں 90 فیصد کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ ملک کی مرکزی سیاسی جماعتیں اس حوالے سے موجودہ آزادانہ پالیسی برقرار رکھنے کی خواہاں ہیں۔

اسی بارے میں