شام: ’دولتِ اسلامیہ کے علاقوں میں بیرل بموں سے درجنوں ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف سنہ 2011 سے شروع ہونے والی شورش میں اب تک دو لاکھ افراد مارے جا چکے ہیں

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے جنوبی اور شمالی علاقوں میں بیرل بم گرائے جس کے نتیجے میں 40 افراد ہلاک ہو گئے۔

کارکنوں کے مطابق ان بیرل بموں سے جمعرات کی رات شام کے شہر حلب کے نزدیک الباب اور قباسین کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے حالیہ دنوں کے دوران اپنی فضائی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف سنہ 2011 سے شروع ہونے والی شورش میں اب تک دو لاکھ افراد مارے جا چکے ہیں۔

اس شورش کے نتیجے میں شام سے 32 لاکھ افراد نکل کر جا چکے ہیں جبکہ 76 لاکھ افراد ملک میں بے گھر ہو چکے ہیں۔

شام کے شہر الباب کی آبادی ایک لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور حکومتی فوج کی جانب سے رواں برس ستمبر کے بعد سے کی جانے والی یہ سب سے بڑی فضائی کارروائی ہے۔

قباسین کے ایک رہائشی یوسف السادی نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو سکائپ کے ذریعے بتایا: ’بازار میں صرف غریب لوگ تھے، وہاں کوئی مسلح گروہ نہیں تھے، بشار الاسد ہمیں کیوں مار رہے ہیں؟‘

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق سے متعلق تنظیمیں شام پر عام شہریوں کے علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتی رہتی ہیں۔

بی بی سی کے دفاعی امور کے نامہ نگار جوناتھن بِیل کا کہنا ہے کہ بیرل بموں کو جان بوجھ کر کم بلندی سے گرایا گیا۔

اس سے قبل شامی حکومت کے ہیلی کاپٹر باغیوں کے پاس زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی وجہ سے ان بموں کو زیادہ اونچائی سے گراتے تھے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں جاری تشدد اور سرد موسم کی وجہ سے مشکلات کے شکار اور امداد کے منتظر افراد کی تعداد اندازاً ایک کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔

اسی بارے میں