صومالیہ: الشباب کے اہم کمانڈر نے ہتھیار ڈال دیے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ابھی تک شدت پسند تنظیم الشباب کی جانب سے اس واقعے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے

افریقہ کے ملک صومالیہ میں حکام کے مطابق شدت پسند تنظیم الشباب کے ایک اہم کمانڈر نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

حکام کے مطابق زکریا احمد اسماعیل ہیرسی الشباب کے انٹیلیجنس نیٹ ورک کے سربراہ ہیں۔

زکریا احمد نے خود کو گیڈو کے مقام پر خود کو حکام کے حوالے کیا۔

2012 میں امریکی محکمۂ خارجہ نے زکریا کی گرفتاری پر 30 لاکھ ڈالر کے انعام کا اعلان کیا تھا۔

زکریا احمد ہیرسی کے ہتھیار ڈالنے سے تین ماہ پہلے الشباب کا اہم کمانڈر احمد عبادی گوندانے امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کا کہنا ہے کہ صومالیہ کے انٹیلجنس کے ایک اہلکار کے مطابق زکریا احمد ہیرسی نے تنظیم سے اختلافات کی وجہ سے ہتھیار ڈال دیے ہوں۔بی بی سی کے افریقی امور کی مدیر میری ہارپر کے مطابق زکریا احمد گذشتہ سال گوندانے سے الگ ہو گئے تھے تاہم اب بھی تنظیم کے ایک طاقتور رکن تصور کیے جاتے ہیں۔

حکام کے مطابق زکریا احمد ہیرسی ایک مکان میں چھ دن سے چھپے ہوئے تھے اور پولیس جب ان کے مکان میں پہنچی تو اس دوران کوئی جھڑپ نہیں ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ زکریا احمد ہیرسی کے پاس اس وقت ایک پستول بھی تھا لیکن اسے پولیس اہلکاروں کے خلاف استعمال نہیں کیا۔

ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا:’ زکریا احمد اسماعیل ہیرسی نےحکومتی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں اور انھیں اتوار کو دارالحکومت موغادیشو منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔‘

ابھی تک شدت پسند تنظیم الشباب کی جانب سے اس واقعے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

امریکہ کی مدد سے افریقی یونین کی سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے 2011 میں الشباب کو صومالی دارالحکومت موغادیشو سے نکال دیا تھا ۔

حال میں ہی الشباب نے ہمسایہ ملک کینیا میں عام شہریوں پر حملے کیے ہیں اور اس کے بعد سے کینیا نے اس کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔

اسی بارے میں