ہالی وڈ کا مزاح کِم جونگ کو کمزور کر سکتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ہالی وڈ کا طنزح ومزا واقعی شمالی کوریا کے رہنما کو کمزور کر سکتا ہے

کرسمس پر متنازعہ فلم ’دی انٹرویو‘ کی محدود ریلیز سے کچھ ناظرین کو فلم کا جائزہ لینے کا موقع ملا، لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہالی وڈ کا طنز و مزاح واقعی شمالی کوریا کے رہنما کو کمزور کر سکتا ہے؟

’دی انٹرویو‘ دو لڑکوں پر فلمائی گئی شور و غل والی ایک فلم ہے جس میں وہ ایک عجیب جگہ پر جاتے ہیں اور مزاح اور قتل وغارت میں مشغول ہوتے ہیں۔

میری نظر میں یہ سیاسی مزاح پر مبنی ایک اچھی فلم ہے۔

یہ موضوع کے لحاظ سے بہت زبردست ہے کیونکہ اس میں کم جونگ کو ایک ناقص انسان کے طور پر دکھایا گیا ہے جو جذباتی اور بے رحم ہے۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ انھیں بات بات پر غصہ آ جاتا ہے اور خصوصاً کم جونگ کو اس وقت بہت غصہ آیا جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی حکومت جوہری ہتھیاروں کی ترقی پر لاکھوں ڈالر کیوں خرچ کر رہی ہے اور اقوام متحدہ سے امدادی خوراک بھی حاصل کر رہی ہے۔

کم جونگ کے ارد گرد کے لوگ ہر وقت خوف کے عالم میں رہتے ہیں کہ نہ جانے وہ کب ناراض ہو جائیں۔

شاید شمالی کوریا کی حکومت کا اس فلم سے ڈرنا صحیح تھا کیونکہ لوگ اگر کم جونگ کو مذاق سمجھنا شروع ہو جائیں تو ان کے لیے مسئلہ بن جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شمالی کوریا کے غدار اکثر جنوبی کوریا سے فلمیں اور ڈارامے اپنے ملک میں سمگل کرتے ہیں

شمالی کوریا کے باغی اکثر جنوبی کوریا سے فلمیں اور ڈارامے سمگل کرتے ہیں اور جنوب میں ایک نقطۂ نظر ہے کہ پیانگ یانگ میں حکومت کو کمزور کرنے کے لیے یہ طاقتور ذرائع ہیں اس لیے کم جونگ کی حکومت کو ڈر ہے کہ کہیں یہ فلم بھی شمالی کوریا سمگل نہ کر دی جائے۔

شمالی کوریا کی حکومت نے اس کے ردِ عمل میں نسلی امتیاز پر مبنی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں صدر براک اوباما کو بندر کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے۔

شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اس فلم نے ان کے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

پابندی کے باوجود چین میں اب تک اس فلم کی ہزاروں کاپیاں ڈاؤن لوڈ کی جا چکیں ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ فلم چین کے راستے شمالی کوریا پہنچ جائے گی۔

چین میں عام لوگوں نے اس فلم کو پسند کیا ہے تاہم حکمران طبقے نے اسے ناپسند کیا ہے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق فلموں پر تبصرے شائع کرنے والی ایک چینی ویب سائٹ پر دس ہزار سے زائد لوگوں نے اس فلم کے بارے میں مثبت رائے دی ہے۔

دوسری جانب کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے شائع کیے جانے ایک اخبار کا کہنا ہے کہ ’دی انڑویو بے معنی ثقافتی تکبر کی نمائندگی کرتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption ایک تازہ بیان میں شمالی کوریا نے امریکہ کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے اپنا طرز عمل برقرار رکھا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا

اس فلم کو آسکر کے لیے نامزد کیا جا سکتا ہے اور اگر اس کو بہترین فلم کا ایوارڈ مل گیا تو یہ ہمیشہ کے لیے شمالی کوریا کی حکومت کے لیے سر درد بن جائے گی۔

شمالی کوریا نے ایک بیان میں امریکہ کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے اپنا طرز عمل برقرار رکھا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

اس دھمکی کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ کم جونگ کی حکومت کے پاس جوہری ہتھیار اور ان کو لے جانے والے راکٹ بھی ہیں۔

اگرچہ شمالی کوریا کے راکٹ امریکہ تک تو نہیں پہنچ سکتے مگر خطے میں موجود اس کے فوجی اڈوں اور اتحادیوں کو ضرور نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

شمالی کوریا کے پاس ماہر ہیکرز بھی ہیں جو ماضی میں جنوبی کوریا کے بینکوں اور ٹی وی سٹیشنوں کی کمپیوٹر سسٹم پر کامیاب حملے کر چکے ہیں اور شاید سونی پکچرز کے نظام کو بھی انھوں نے ہی ہیک کیا تھا، تاہم بعض مستند ماہرین کو اس پر شک ہے۔

شمالی کوریا کی قیادت نے اگرچہ سونی کا ڈیٹا ہیک کر نے کی کارروائی کی تعریف کی ہے مگر اس کارروائی میں ملوث ہو نے سے نہ صرف انکار کیا ہے بلکہ امریکہ پر اپنے انٹرنیٹ کے نظام پر حملے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

فی الحال دونوں ممالک کے درمیان الفاظ کی جنگ جاری ہے۔

’دی انٹرویو‘ سے کم جونگ کی حکومت کا فوری تختہ الٹنے کا تو کوئی امکان نہیں ہے مگر ہوسکتا ہے کہ ایک دن یہ اس ضمن میں مدد گار ثابت ہو۔

.

اسی بارے میں