ملائیشیا: مشرقی ساحلی پٹی سیلاب سے متاثر، پانچ ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ n
Image caption ملائیشیا کی مشرقی ساحلی پٹی کو اس وقت کئی دہائیوں میں بدترین سیلاب کا سامنا ہے

ملائیشیا کی مشرقی ساحلی پٹی کو اس وقت کئی دہائیوں کے بدترین سیلاب کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

سیلاب کی وجہ سے ایک لاکھ سے زیادہ افراد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

ملک کے وزیر اعظم نجیب رزاق اپنی چھٹیاں مختصر کر کے امریکہ سے واپس آگئے ہیں اور جلد ہی متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔

ملائیشیا کی مشرقی ریاستوں میں اکثر مون سون کے موسم میں سیلاب آتے ہیں۔ حکام کے مطابق اس بار شدید بارشوں اور تیز ہواؤں کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔

حکومت نے سیلاب کو گزشتہ 30 سالوں کا بدترین سیلاب قرار دیا ہے، جس کے نتیجے میں کچھ علاقوں میں پورے کے پورے شہروں ڈوب گۓ ہیں۔

ایک متاثرہ شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کا گاؤں سیلاب سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ علاقے میں بجلی کی فراہمی بھی منقطح ہے اور خوراک کی کمی پیدا ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔

امدادی کارکنوں کو متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوے لوگوں تک امداد پہنچانے میں دشواری ہو رہی ہے۔

ملائیشیا میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق مقامی ذرائع ابلاغ نے ملک کے وزیر اعظم نجیب رزاق کی امریکی صدر براک اوباما کے ساتھ گولف کھیلتے ہوئے تصاویر شائع کی تھی۔ جس کی وجہ سے انہیں شدید تنقید کا سامنا کر نا پڑا تھا اور وہ اپنی چھٹی مختصر کر ملک واپس آ گئے تھے۔

اسی بارے میں