میکسیکو: اغوا شدہ پادری کی لاش برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ستمبر میں 43 طلبہ کے اغوا کے تین ماہ بعد میکسیکو کے متعدد شہروں میں مظاہرے ہوئے تھے

میکسیکو میں حکام کا کہنا ہے کہ جس پادری کو پیر کے روز جنوب مغربی صوبے گوئریرو سے اغوا کیا گیا تھا، ان کی لاش ملی ہے۔

پادری گریگوریو لوپیس کی لاش سیوڈیڈ الٹامیرانو شہر کے پاس ملی ہے۔

فادر لوپیس کی لاش برآمد ہونے کے بعد شہر میں پادریوں کی ایک جماعت نے اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے مظاہرہ کیا اور جلوس نکالا۔

واضح رہے کہ پادری لوپیس کو سیوڈیڈ الٹامیرانو کی درس گاہ سے اغوا کیا گیا تھا جہاں وہ درس و تدریس کا کام کیا کرتے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان کے قتل کے پس پشت مقصد واضح نہیں ہے۔

مقتول پادری کے ایک دوست نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ فادر لوپیز کو اس واقعے کے بعد اغوا کیا گیا جب انھوں نے منشیات کا کاروبار کرنے والے گروہ گوئریروز یونیدوز پر ستمبر میں 43 طلبہ کے اغوا اور قتل کا الزام لگایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جمعے کو میکسیکو کے متعدد شہروں میں مظاہرین نے 26 ستمبر کو گم ہونے والے طلبہ کی یاد میں تین ماہ پورا ہونے پر مظاہرے کیے

اس سال گوئریرو صوبے میں قتل کیے جانے والے وہ تیسرے پادری ہیں اور یہ صوبہ میکسیکو میں منشیات کے تعلق سے تشدد کا مرکز رہا ہے۔

گذشتہ ماہ فورینسک ماہرین نے ایک اجتماعی قبر میں پائی جانے والی لاشوں میں یوگانڈا سے تعلق رکھنے والے ایک کیتھولک پادری کی لاش کی شناخت کی تھی ۔ فادر جان سینیونڈو اپریل میں اغوا کیے جانے کے بعد سے لاپتہ تھے۔

اس اجتماعی قبر کی تلاش وفاقی پولیس نے طلبہ کی گمشدگی کے بعد کی تھی۔

جمعے کو میکسیکو کے متعدد شہروں میں مظاہرین نے 26 ستمبر کو گم ہونے والے طلبہ کی یاد میں تین ماہ پورا ہونے پر مظاہرے کیے۔

مبینہ طور پر پولیس نے ایگوالا میں انھیں ایک جھڑپ کے بعد حراست میں لیا تھا جس میں چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان طلبہ کو منشیات کا کاروبار کرنے والے گروہ کے حوالے کر دیا تھا جنھوں نے انھیں مار کر ان کی لاشوں کو جلا ڈالا۔

تاہم ابھی تک حکام صرف ایک ہی طلبہ کی لاش کی نشاندہی کر سکے ہیں۔

اسی بارے میں